وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: Yusuf آیه 33

۳۳:۱۲
قال رب السجن احب الي مما يدعونني اليه والا تصرف عني كيدهن اصب اليهن واكن من الجاهلين ٣٣
قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ ٣٣
قَالَﱹ
رَبِّﱺ
ٱلسِّجۡنُﱻ
أَحَبُّﱼ
إِلَيَّﱽ
مِمَّاﱾ
يَدۡعُونَنِيٓﱿ
إِلَيۡهِۖﲀﲁ
وَإِلَّاﲂ
تَصۡرِفۡﲃ
عَنِّيﲄ
كَيۡدَهُنَّﲅ
أَصۡبُﲆ
إِلَيۡهِنَّﲇ
وَأَكُنﲈ
مِّنَﲉ
ٱلۡجَٰهِلِينَﲊ
٣٣ﲋ
(یوسف) گفت: «پروردگارا! زندان نزد من از آنچه (این‌ها) مرا به سوی آن می‌خوانند، محبوب‌تر است، و اگر مکر آن‌ها را از من نگردانی، به سوی آنان متمایل می‌شوم، و از نادانان خواهم بود».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 12:32 تا 12:34

وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ اس عورت کا دھڑلے سے خصوصی دعوت کا اہتمام کرنا اور اس میں سب کو فخر سے بتانا کہ دیکھ لو یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور پھر پوری بےحیائی سے اعلان کرنا کہ ایک دفعہ تو یہ مجھ سے بچ گیا ہے مگر کب تک ؟ آخر کار اسے میری بات ماننا ہوگی ! اس سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ان کی اس انتہائی اونچی سطح کی سوسائٹی کی مجموعی طور پر اخلاقی حالت کیا تھی !