وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Yusuf آیه 32

۳۲:۱۲
قالت فذالكن الذي لمتنني فيه ولقد راودته عن نفسه فاستعصم ولين لم يفعل ما امره ليسجنن وليكونا من الصاغرين ٣٢
قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًۭا مِّنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ ٣٢
قَالَتۡﱣ
فَذَٰلِكُنَّﱤ
ٱلَّذِيﱥ
لُمۡتُنَّنِيﱦ
فِيهِۖﱧﱨ
وَلَقَدۡﱩ
رَٰوَدتُّهُۥﱪ
عَنﱫ
نَّفۡسِهِۦﱬ
فَٱسۡتَعۡصَمَۖﱭﱮ
وَلَئِنﱯ
لَّمۡﱰ
يَفۡعَلۡﱱ
مَآﱲ
ءَامُرُهُۥﱳ
لَيُسۡجَنَنَّﱴ
وَلَيَكُونٗاﱵ
مِّنَﱶ
ٱلصَّٰغِرِينَﱷ
٣٢ﱸ
(همسر عزیز) گفت: «این هست همان کسی‌که مرا در(بارۀ) او سرزنش کردید، (آری) به راستی من او را برای کام‌جویی به خود دعوت کردم، پس او خود داری کرد، و اگر آنچه را که به او دستور می‌دهم، انجام ندهد؛ قطعاً زندانی می‌شود و مسلماً خوار و زبون خواهد بود».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 12:30 تا 12:34

اس قصہ میں ایک طرف مصر کے اونچے طبقہ کی خواتین تھیں اور دوسری طرف حضرت یوسف۔ خواتین آپ کو بس ایک خوب صورت جوان کی صورت میں دیکھ رہی تھیں۔ اسی طرح حضرت یوسف ان خواتین کو تسکین نفس کے سامان کے روپ میں دیکھ سکتے تھے۔ مگر انتہائی ہیجان خیز حالات میں بھی آپ نے ایسا نہیں کیا۔

خواتین کا حال یہ تھا کہ وہ سب کی سب آپ کی پُرکشش شخصیت کی طرف متوجہ تھیں۔ حتی کہ شدّت محویت میں انھوں نے چھری سے پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ زخمی کرليے۔ مگر حضرت یوسف اپنی تمام تر توجہ خدا کی طرف لگائے ہوئے تھے۔ خدا کی عظمت وکبریائی کااحساس آپ کے اوپر اتنا غالب آچکا تھا کہ کوئی دوسری چیز آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی— کتنا فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں۔