وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: Yusuf آیه 24

۲۴:۱۲
ولقد همت به وهم بها لولا ان راى برهان ربه كذالك لنصرف عنه السوء والفحشاء انه من عبادنا المخلصين ٢٤
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَـٰنَ رَبِّهِۦ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ ٢٤
وَلَقَدۡﱜ
هَمَّتۡﱝ
بِهِۦۖﱞﱟ
وَهَمَّﱠ
بِهَاﱡ
لَوۡلَآﱢ
أَنﱣ
رَّءَاﱤ
بُرۡهَٰنَﱥ
رَبِّهِۦۚﱦﱧ
كَذَٰلِكَﱨ
لِنَصۡرِفَﱩ
عَنۡهُﱪ
ٱلسُّوٓءَﱫ
وَٱلۡفَحۡشَآءَۚﱬﱭ
إِنَّهُۥﱮ
مِنۡﱯ
عِبَادِنَاﱰ
ٱلۡمُخۡلَصِينَﱱ
٢٤ﱲ
و به راستی آن زن قصد او (= یوسف) کرد، و او نیز اگر برهان پروردگارش ندیده بود؛ قصد وی می‌کرد، این چنین (کردیم) تا بدی و فحشا از او دور سازیم، بی‌گمان او از بندگان مخلص ماست.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 24 وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ حضرت یوسف جوان تھے اور ممکن تھا طبع بشری کی بنیاد پر آپ کے دل میں بھی کوئی ایسا خیال جنم لیتا مگر اللہ نے اس نازک موقع پر آپ کی خصوصی مدد فرمائی اور اپنی خصوصی نشانی دکھا کر آپ کو کسی منفی خیال سے محفوظ رکھا۔ یہ نشانی کیا تھی اس کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں البتہ تورات میں اس کی وضاحت یوں بیان کی گئی ہے کہ عین اس موقع پر حضرت یعقوب کی شکل دیوار پر ظاہر ہوئی اور آپ نے انگلی کا اشارہ کر کے حضرت یوسف کو باز رہنے کے لیے کہا۔كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ یعنی ہم نے اپنی نشانی دکھا کر حضرت یوسف سے برائی اور بےحیائی کا رخ پھیر دیا اور یوں آپ کی عصمت و عفت کی حفاظت کا خصوصی اہتمام کیا۔اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ واضح رہے کہ یہاں لفظ مُخْلَص لام کی زبر کے ساتھ آیا ہے۔ مُخلِص اور مخلص کے فرق کو سمجھ لیجیے۔ مُخلِص اسم الفاعل ہے یعنی خلوص و اخلاص سے کام کرنے والا اور مخلص وہ شخص ہے جس کو خالص کرلیا گیا ہو۔ اللہ کے مخلص وہ ہیں جن کو اللہ نے اپنے لیے خالص کرلیا ہو ‘ یعنی اللہ کے خاص برگزیدہ اور چہیتے بندے۔