وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: Yusuf آیه 18

۱۸:۱۲
وجاءوا على قميصه بدم كذب قال بل سولت لكم انفسكم امرا فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون ١٨
وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍۢ كَذِبٍۢ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌۭ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١٨
وَجَآءُوﱭ
عَلَىٰﱮ
قَمِيصِهِۦﱯ
بِدَمٖﱰ
كَذِبٖۚﱱﱲ
قَالَﱳ
بَلۡﱴ
سَوَّلَتۡﱵ
لَكُمۡﱶ
أَنفُسُكُمۡﱷ
أَمۡرٗاۖﱸﱹ
فَصَبۡرٞﱺ
جَمِيلٞۖﱻﱼ
وَٱللَّهُﱽ
ٱلۡمُسۡتَعَانُﱾ
عَلَىٰﱿ
مَاﲀ
تَصِفُونَﲁ
١٨ﲂ
و پیراهن او را با خونی دروغین (برای یعقوب) آوردند، (او) گفت: «(چنین نیست) بلکه (هوای) نفس شما کاری (ناشایست) را برای شما آراسته است، پس (کار من) صبر جمیل است، و بر آنچه می‌گویید، الله مدد‌کار (من) است».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًاان کی بات سن کر حضرت یعقوب نے فرمایا کہ نہیں بات کچھ اور ہے۔ یہ بات جو تم بتا رہے ہو یہ تو تمہارے جی کی گھڑی ہوئی ایک بات ہے۔ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑی بات کو ہلکا کر کے پیش کیا ہے اور تم لوگوں نے کوئی بہت بڑا غلط اقدام کیا ہے۔فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ حضرت یعقوب اکیلے تھے بوڑھے تھے اور دوسری طرف دس جوان بیٹے اس صورت حال میں اور کیا کہتے ؟