وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Yusuf ۱۵:۱۲

۱۵:۱۲
فلما ذهبوا به واجمعوا ان يجعلوه في غيابت الجب واوحينا اليه لتنبينهم بامرهم هاذا وهم لا يشعرون ١٥
فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ١٥
فَلَمَّا
ذَهَبُواْ
بِهِۦ
وَأَجۡمَعُوٓاْ
أَن
يَجۡعَلُوهُ
فِي
غَيَٰبَتِ
ٱلۡجُبِّۚ
وَأَوۡحَيۡنَآ
إِلَيۡهِ
لَتُنَبِّئَنَّهُم
بِأَمۡرِهِمۡ
هَٰذَا
وَهُمۡ
لَا
يَشۡعُرُونَ
١٥
پس چون او را با خود بردند، و تصمیم گرفتند که او را در قعر چاه قرار دهند، و (تصمیم خود را عملی نمودند) به او وحی کردیم که قطعاً آن‌ها را از این کار‌شان آگاه خواهی کرد، در حالی‌که آن‌ها نمی‌دانند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

اب یہ لوگ انہیں لے کر جا رہے ہیں اس مکروہ سازش پر یہ لوگ عمل پیرا ہورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس بچے کے دل میں یہ بات ڈال رہا ہے کہ یہ ایک آزمائش ہے اور یہ ختم ہونے والی ہے اور یہ کہ انشاء اللہ وہ زندہ رہے گا اور اپنے غافل بھائیوں کو اس کے بارے میں خود بتائے گا۔

ان کے درمیان یہ بات طے پاگئی کہ اب یوسف کو کنوئیں میں ڈالنا ہے ، جہاں وہ ان کی نظروں سے دور رہے گا۔ اب ہر شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ اس وقت یوسف پر کیا گزری ہوگی کہ یہ سب بھائی مل کر اس کمزور بچے کو کنوئیں میں ڈال رہے ہوں گ۔ جس کو اپنی موت قریب نظر آرہی ہوگی اور بھائیوں کی نظریں بدل گئی ہوں گی ، اس عالم بےبسی و بےکسی میں اب صرف اللہ کی مدد آتی ہے اور اللہ ان کے دل میں اطمینان اور سکینت ڈال دیتے ہیں کہ تم زندہ رہوگے ، ان کو بتاؤ گے کہ تم نے کیا کیا تھا ، اور ایسے حالات میں جبکہ کنوئیں میں ڈالا جانے والا یہ بچہ اب مملکت کا فرمانروا ہوگا۔