وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۱۱:۱۲
قالوا يا ابانا ما لك لا تامنا على يوسف وانا له لناصحون ١١
قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَـٰصِحُونَ ١١
قَالُواْ
يَٰٓأَبَانَا
مَا
لَكَ
لَا
تَأۡمَ۬نَّا
عَلَىٰ
يُوسُفَ
وَإِنَّا
لَهُۥ
لَنَٰصِحُونَ
١١
(و آنگاه نزد پدر آمدند) و گفتند: «پدرجان! تو را چه شده است که ما را بر (برادرمان) یوسف امین نمی‌شماری، در حالی‌که ما خیر خواه او هستیم؟!
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 12:11 تا 12:14

حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو جو جواب دیا اس سے معلوم ہوتاہے کہ حالات کے مطالعہ سے انھوں نے اندازہ کرلیا تھا کہ یہ صحرامیں کھیلنے کودنے کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یوسف کے خلاف ان کے بھائیوں کی سازش کا معاملہ ہے۔مگر اللہ سے ڈرنے والا انسان اللہ پر بھروسہ کرنے والا انسان ہوتاہے۔ حضرت یعقوب نے اگر چہ اپنی فراست سے یہ محسوس کرلیا تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے۔ تاہم وہ خدا کی قدرت کو ہر دوسری چیز سے اوپر سمجھتے تھے۔ ان کو خدا کی بالا دستی پر کامل یقین تھا۔ چنانچہ واضح خطرات کے باوجود انھوں نے یوسف کو خدا کے بھروسہ پر ان کے بھائیوں کے حوالے کردیا۔

یہ خدا سے ڈرنے والے انسان کی تصویر تھی۔ دوسری طرف حضرت یوسف کے بھائیوں میں ان لوگوں کی تصویر نظر آتی ہے جن کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوں۔ یہ لوگ ایک بندۂ خدا کو ناحق برباد کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ وہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں خداکے سوا کسی اور کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ وہ لفظوں کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کررہے تھے۔ حالانکہ خدا کے نزدیک خیر خواہ وہ ہے جو عمل کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کرے۔