وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Taha آیه 97

۹۷:۲۰
قال فاذهب فان لك في الحياة ان تقول لا مساس وان لك موعدا لن تخلفه وانظر الى الاهك الذي ظلت عليه عاكفا لنحرقنه ثم لننسفنه في اليم نسفا ٩٧
قَالَ فَٱذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِى ٱلْحَيَوٰةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ ۖ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًۭا لَّن تُخْلَفَهُۥ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰٓ إِلَـٰهِكَ ٱلَّذِى ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًۭا ۖ لَّنُحَرِّقَنَّهُۥ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُۥ فِى ٱلْيَمِّ نَسْفًا ٩٧
قَالَﲯ
فَٱذۡهَبۡﲰ
فَإِنَّﲱ
لَكَﲲ
فِيﲳ
ٱلۡحَيَوٰةِﲴ
أَنﲵ
تَقُولَﲶ
لَاﲷ
مِسَاسَۖﲸﲹ
وَإِنَّﲺ
لَكَﲻ
مَوۡعِدٗاﲼ
لَّنﲽ
تُخۡلَفَهُۥۖﲾﲿ
وَٱنظُرۡﳀ
إِلَىٰٓﳁ
إِلَٰهِكَﳂ
ٱلَّذِيﳃ
ظَلۡتَﳄ
عَلَيۡهِﳅ
عَاكِفٗاۖﳆﳇ
لَّنُحَرِّقَنَّهُۥﳈ
ثُمَّﳉ
لَنَنسِفَنَّهُۥﳊ
فِيﳋ
ٱلۡيَمِّﳌ
نَسۡفًاﳍ
٩٧ﳎ
(موسی) گفت: «پس برو، بی‌شک بهرۀ تو در زندگی دنیا این است که بگویی: «(به من) دست نزنید (و نزدیک نشوید)» و همانا وعده‌ای (از عذاب) داری، که هرگز تخلف نخواهد شد، و (اکنون) به معبودت بنگر که پیوسته عبادتش می‌کردی (و آن را رها نمی‌کردی) آن را خواهیم سوزاند، سپس (خاکستر و ذرات) آن را در دریا پراکنده می‌سازیم.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:95 تا 20:98

حضرت موسیٰ کو جب معلوم ہوا کہ اس فعل کا اصل لیڈر سامری ہے تو آپ نے اس سے پوچھ گچھ کی۔ سامری نے دوبارہ ہوشیاری کا طریقہ اختیار کیا اور بات بناتے ہوئے کہا میں نے جو کچھ کیا ایک کشف کے زیر اثر کیا۔ اور خودرسول کے نقش قدم کی مٹی بھی اس میں برکت کے لیے شامل کردی۔

پیغمبر کو فریب دینے کی کوشش کی بنا پر سامری کا جرم اور زیادہ شدید ہوگیا۔ بائبل کے بیان کے مطابق اس کو خدا نے کوڑھ کا مریض بنادیا۔ اس کا جسم ایسا مکروہ ہوگیا کہ لوگ اس کو دیکھ کر دور ہی سے اس سے کترانے لگے۔ سامری نے جھوٹ کی بنیاد پر قوم کا محبوب بننے کی کوشش کی۔ اس کی اسے یہ سزا ملی کہ اس کو قوم کا سب سے زیادہ مبغوض شخص بنا دیا گیا۔ اور آخرت کی سزا اس کے علاوہ ہے۔

بنی اسرائیل کے ذہن میں مشرکانہ مظاہر کی جو عظمت تھی اسی کو ختم کرنے کے لیے حضرت موسیٰ نے یہ کیا کہ لوگوں کے سامنے بچھڑے کو جلا ڈالا اور پھر اس کی خاک کو سمندر کی موجوں میں بہادیا۔