وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۸۶:۲۰
فرجع موسى الى قومه غضبان اسفا قال يا قوم الم يعدكم ربكم وعدا حسنا افطال عليكم العهد ام اردتم ان يحل عليكم غضب من ربكم فاخلفتم موعدي ٨٦
فَرَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَـٰنَ أَسِفًۭا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ ٱلْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِى ٨٦
فَرَجَعَ
مُوسَىٰٓ
إِلَىٰ
قَوۡمِهِۦ
غَضۡبَٰنَ
أَسِفٗاۚ
قَالَ
يَٰقَوۡمِ
أَلَمۡ
يَعِدۡكُمۡ
رَبُّكُمۡ
وَعۡدًا
حَسَنًاۚ
أَفَطَالَ
عَلَيۡكُمُ
ٱلۡعَهۡدُ
أَمۡ
أَرَدتُّمۡ
أَن
يَحِلَّ
عَلَيۡكُمۡ
غَضَبٞ
مِّن
رَّبِّكُمۡ
فَأَخۡلَفۡتُم
مَّوۡعِدِي
٨٦
پس موسی خشمگین (و) اندوهناک به سوی قومش بازگشت، (و) گفت: «ای قوم من! مگر پروردگارتان وعدۀ نیکو به شما نداده بود؟ آیا مدت (جدایی من از شما) به درازا کشید، یا خواستید خشمی از (سوی) پروردگارتان بر شما نازل شود، که وعدۀ مرا خلاف کردید؟».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:86 تا 20:89

بنی اسرائیل کی عورتیں غالباً قدیم رواج کے مطابق بھاری زیورات اپنے جسم پر لادے ہوئی تھیں۔ اس سفر میں قوم نے کہیں پڑاؤ ڈالا تو انھوںنے ان زیورات کو اتار کر ایک جگہ ڈھیر کردیا۔ ان کے درمیان ایک سامری تھا جو مصر کی قدیم صنعت بت سازی کا تجربہ رکھتا تھا۔ اس نے ان زیورات کو پگھلایا اور ان سے بچھڑے جیسی ایک مورت بنا ڈالی۔ یہ بچھڑا اندرسے خالی تھا۔ اور اس طرح ہنر مندی سے بنایا گیا تھا کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرتی تو بیل کی ڈکار کی سی آواز آتی۔ سامری نے بنی اسرائیل کے جاہل عوام سے کہا کہ دیکھو تمهارا معبود تو یہ ہے جو یہاں موجود ہے۔ موسیٰ معبود کی تلاش میں معلوم نہیں کس پہاڑ پر چلے گئے۔

ہر زمانے کے ’’سامری‘‘ اسی طرح عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ وہ کسی محسوس چیز کو نشانہ بنا کر اسی کو سب سے بڑا حق ثابت کرتے ہیں۔ اور الفاظ کے فریب میں آکر عوام کی ایک بھیڑ ان کے گرد جمع ہوجاتی ہے — محسوس پرستی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ خواہ وہ دور قدیم کا انسان ہو یا دور جدید کا انسان۔