وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Taha آیه 72

۷۲:۲۰
قالوا لن نوثرك على ما جاءنا من البينات والذي فطرنا فاقض ما انت قاض انما تقضي هاذه الحياة الدنيا ٧٢
قَالُوا۟ لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلَّذِى فَطَرَنَا ۖ فَٱقْضِ مَآ أَنتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِى هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَآ ٧٢
قَالُواْﲡ
لَنﲢ
نُّؤۡثِرَكَﲣ
عَلَىٰﲤ
مَاﲥ
جَآءَنَاﲦ
مِنَﲧ
ٱلۡبَيِّنَٰتِﲨ
وَٱلَّذِيﲩ
فَطَرَنَاۖﲪﲫ
فَٱقۡضِﲬ
مَآﲭ
أَنتَﲮ
قَاضٍۖﲯﲰ
إِنَّمَاﲱ
تَقۡضِيﲲ
هَٰذِهِﲳ
ٱلۡحَيَوٰةَﲴ
ٱلدُّنۡيَآﲵ
٧٢ﲶ
گفتند: «سوگند به آن که ما را آفریده است، هرگز تو را بر این دلایل روشنی که برای ما آمده، ترجیح نمی‌دهیم، پس به هر حکمی که می‌خواهی حکم کن، تو تنها می‌توانی در این زندگی دنیا حکم کنی.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:71 تا 20:73

جادوگروں کے سامنے ایک طرف حضرت موسیٰ کی دلیل تھی، اور دوسری طرف فرعون کی جابرانہ شخصیت۔ یہ دلیل اور شخصیت کا مقابلہ تھا۔ جادوگروں نے شخصیت پر دلیل کو ترجیح دی۔ اگر چہ وہ جانتے تھے کہ اس ترجیح کی قیمت انھیں انتہائی مہنگی صورت میں دینی پڑے گی۔

جادوگروں کا ایمان کوئی نسلی یا رسمی ایمان نہ تھا۔ ان کا ایمان ان کے لیے دریافت کے ہم معنی تھا۔ اور جو ایمان کسی آدمی کو دریافت کے طورپر حاصل ہو وہ اتنا طاقت ور ہوتاہے کہ اس کے بعد ہر دوسری چیز اس کو ہیچ نظر آنے لگتی ہے، خواہ وہ کوئی بڑی شخصیت ہو یا کوئی بڑی دنیوی مصلحت۔