وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Taha ۶۰:۲۰

۶۰:۲۰
فتولى فرعون فجمع كيده ثم اتى ٦٠
فَتَوَلَّىٰ فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُۥ ثُمَّ أَتَىٰ ٦٠
فَتَوَلَّىٰ
فِرۡعَوۡنُ
فَجَمَعَ
كَيۡدَهُۥ
ثُمَّ
أَتَىٰ
٦٠
آنگاه فرعون باز گشت، پس (همۀ) مکر و حیله خود را جمع کرد، سپس آمد.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

فتول فرعون فجمع کیدہ ، ثم اتی (06)

قرآن مجید نے فرعون کی ہدایات فرعون کے سرداروں کے مشورے اور پھر اس کے اور جادوگروں کے درمیان جو مکالمہ ہوا ، ان سب امور کو مجمل چھوڑ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے باہم جو مشورے ہوئے ، جو تیاریاں کی گئیں ، جادگروں سے جو وعدہ ہوئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی یہ سب امور ترک کردیئے گئے ہیں۔ صرف ایک مختصر جملہ کہا کہ ” فرون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کر لئے اور مقابلے میں آگیا “ ۔ یہ مختصر اور چھٹوی سی آیت مسلسل تین اقدامات اور حرکات کو ظاہر کرتی ہے ، فرعون گیا ، تمام تدابیر اختیار کیں اور مقابلے پر آگیا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سوچا کہ مقابلے میں آنے سے قبل ان لوگوں کو نصیحت کرنا ایک بنیادی فریضہ ہے یہ کہ حق کے مقابلے میں وہ جو افتراء باندھ رہے ہیں وہ نہایت ہی خطرناک فعل ہے ، اس لئے کہ ہو سکتا ہے وہ باز آجائیں ، جادو کے ذریعہ سچائی کے مقابلے میں آنے کا ارادہ ترک کردیں ، یہاں جادو کو افترئا کہا گیا ہے۔