وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۴۷:۲۰
فاتياه فقولا انا رسولا ربك فارسل معنا بني اسراييل ولا تعذبهم قد جيناك باية من ربك والسلام على من اتبع الهدى ٤٧
فَأْتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ ۖ قَدْ جِئْنَـٰكَ بِـَٔايَةٍۢ مِّن رَّبِّكَ ۖ وَٱلسَّلَـٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلْهُدَىٰٓ ٤٧
فَأۡتِيَاهُ
فَقُولَآ
إِنَّا
رَسُولَا
رَبِّكَ
فَأَرۡسِلۡ
مَعَنَا
بَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
وَلَا
تُعَذِّبۡهُمۡۖ
قَدۡ
جِئۡنَٰكَ
بِـَٔايَةٖ
مِّن
رَّبِّكَۖ
وَٱلسَّلَٰمُ
عَلَىٰ
مَنِ
ٱتَّبَعَ
ٱلۡهُدَىٰٓ
٤٧
پس به نزد او بروید و بگویید: ما فرستادگان پروردگارت هستیم، بنی اسرائیل را با ما بفرست، و آن‌ها را آزار و شکنجه نکن، به‌راستی که ما نشانه‌هاى روشنى از سوی پروردگارت برای تو آورده‌ایم، و سلام بر آن کسی‌که از هدایت پیروی کند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:41 تا 20:47

آیت 41 وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ”اِصْطَنَعْتُ ‘ صَنَعْتُ سے باب افتعال ہے۔ ص کی مناسبت سے ت یہاں ط سے بدل گئی ہے۔ یعنی میں نے آپ علیہ السلام کی شخصیت کو خصوصی طور پر تیار کیا ہے۔ شاہی محل کے اندر مخصوص ماحول میں آپ علیہ السلام کی پرورش کرائی ہے اور بعض خصوصی صلاحیتیں آپ علیہ السلام کی شخصیت میں پیدا کی ہیں۔ اس لیے کہ مجھے آپ علیہ السلام سے ایک بڑا کام لینا ہے۔