وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Fi Zilal al-Quran تفسیر: Taha آیه 135

۱۳۵:۲۰
قل كل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحاب الصراط السوي ومن اهتدى ١٣٥
قُلْ كُلٌّۭ مُّتَرَبِّصٌۭ فَتَرَبَّصُوا۟ ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَـٰبُ ٱلصِّرَٰطِ ٱلسَّوِىِّ وَمَنِ ٱهْتَدَىٰ ١٣٥
قُلۡﳓ
كُلّٞﳔ
مُّتَرَبِّصٞﳕ
فَتَرَبَّصُواْۖﳖﳗ
فَسَتَعۡلَمُونَﳘ
مَنۡﳙ
أَصۡحَٰبُﳚ
ٱلصِّرَٰطِﳛ
ٱلسَّوِيِّﳜ
وَمَنِﳝ
ٱهۡتَدَىٰﳞ
١٣٥ﳟ
(ای پیامبر!) بگو: «همه منتظرند، شما (نیز) منتظر باشید، پس به‌زودی خواهید دانست که چه کسی اصحاب راه راست، و چه کسی هدایت یافته‌اند».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

یوں اس سورة کا خاتمہ ہوتا ہے جس کا آغاز اس فقرے سے ہوا تھا کہ اے نبی آپ پر یہ قرآن اس لئے نازل نہیں کیا گیا کہ آپ کسی مصیبت میں گھر جائیں بلکہ یہ ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جن کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ چناچہ سورة کا یہ خاتمہ بھی آغاز سے ہم آہنگ ہے کہ یہ ادنی تذکرہ ہے۔ اس شخص کے لئے جسے کوئی تذکرہ فائدہ دیتا ہو۔ جب یہ تذکرہ تم تک پہنچ گیا تو اب انتظار نتیجہ کے سوا کیا بات رہ جاتی ہے اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔