وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: Taha آیه 134

۱۳۴:۲۰
ولو انا اهلكناهم بعذاب من قبله لقالوا ربنا لولا ارسلت الينا رسولا فنتبع اياتك من قبل ان نذل ونخزى ١٣٤
وَلَوْ أَنَّآ أَهْلَكْنَـٰهُم بِعَذَابٍۢ مِّن قَبْلِهِۦ لَقَالُوا۟ رَبَّنَا لَوْلَآ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًۭا فَنَتَّبِعَ ءَايَـٰتِكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخْزَىٰ ١٣٤
وَلَوۡﲿ
أَنَّآﳀ
أَهۡلَكۡنَٰهُمﳁ
بِعَذَابٖﳂ
مِّنﳃ
قَبۡلِهِۦﳄ
لَقَالُواْﳅ
رَبَّنَاﳆ
لَوۡلَآﳇ
أَرۡسَلۡتَﳈ
إِلَيۡنَاﳉ
رَسُولٗاﳊ
فَنَتَّبِعَﳋ
ءَايَٰتِكَﳌ
مِنﳍ
قَبۡلِﳎ
أَنﳏ
نَّذِلَّﳐ
وَنَخۡزَىٰﳑ
١٣٤ﳒ
اگر (ما) آن‌ها را پیش از آمدن او (= پیامبر) با عذابی هلاک می‌کردیم؛ قطعاً (روز قیامت) می‌گفتند: «پروردگارا! چرا پیامبری به‌سوی ما نفرستادی، تا پیش از آن که خوار و رسوا شویم از آیات تو پیروی کنیم؟!».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:134 تا 21:1

فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی ”یہ وہی اصول ہے جو ہم سورة بنی اسرائیل میں بھی پڑھ آئے ہیں : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً کہ ہم کسی قوم پر عذاب ہلاکت اس وقت تک نہیں بھیجتے جب تک اللہ کی طرف سے کوئی رسول آکر واضح طور پر حق کا احقاق اور باطل کا ابطال نہ کردے۔ لیکن رسول کے اتمام حجت کے بعد بھی اگر قوم انکار پر اڑی رہے تو پھر اس کو عذاب استیصال کے ذریعے سے ہلاک کر کے نسیاً منسیاً کردیا جاتا ہے۔