وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۱۲۸:۲۰
افلم يهد لهم كم اهلكنا قبلهم من القرون يمشون في مساكنهم ان في ذالك لايات لاولي النهى ١٢٨
أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ ٱلْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـٰكِنِهِمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلنُّهَىٰ ١٢٨
أَفَلَمۡ
يَهۡدِ
لَهُمۡ
كَمۡ
أَهۡلَكۡنَا
قَبۡلَهُم
مِّنَ
ٱلۡقُرُونِ
يَمۡشُونَ
فِي
مَسَٰكِنِهِمۡۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَٰتٖ
لِّأُوْلِي
ٱلنُّهَىٰ
١٢٨
آیا برای هدایت (و بیداری) آن‌ها کافی نیست که پیش از اینان چه بسیار از نسل‌ها را هلاک کردیم که در مساکن آن‌ها راه می‌روند؟! بی‌گمان در این (امر) نشانه‌های برای خردمندان است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:128 تا 20:130

کسی قوم کو زمین پرعروج حاصل ہو اور پھر وہ ہلاک یا مغلوب کر دی جائے تو اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے بندگی کی حد سے تجاوز کیا۔ ہر تباہ شدہ قوم اپنے بعد والوں کے لیے درس عبرت ہوتی ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس طرح کے واقعات سے درس حاصل کرتے ہوں۔

یہاں تسبیح اور نماز کی جو تلقین کی گئی ہے وہ مکی دور کے انتہائی سخت حالات میں کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ انکار اور مخالفت کے سخت ترین حالات میں نماز اور خدا کی یاد مومن کی ڈھال ہے۔ اس سے راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ اور فتوحات کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس سے سب کچھ اتنی بڑی مقدار میں مل جاتا ہے کہ آدمی اس کو پاکر راضی ہوجائے۔