وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: Taha آیه 124

۱۲۴:۲۰
ومن اعرض عن ذكري فان له معيشة ضنكا ونحشره يوم القيامة اعمى ١٢٤
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةًۭ ضَنكًۭا وَنَحْشُرُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ أَعْمَىٰ ١٢٤
وَمَنۡﳂ
أَعۡرَضَﳃ
عَنﳄ
ذِكۡرِيﳅ
فَإِنَّﳆ
لَهُۥﳇ
مَعِيشَةٗﳈ
ضَنكٗاﳉ
وَنَحۡشُرُهُۥﳊ
يَوۡمَﳋ
ٱلۡقِيَٰمَةِﳌ
أَعۡمَىٰﳍ
١٢٤ﳎ
و کسی‌که از یاد من روی گردان شود، پس بی‌گمان زندگانی (سخت و) تنگی خواهد داشت، و روز قیامت او را نابینا بر انگیزیم.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:124 تا 20:128

آیت 124 وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا ”ایسا شخص دنیوی زندگی میں اطمینان اور راحت سے محروم کردیا جائے گا۔ پیاس کے مریض کی طرح کہ وہ جتنا چاہے پانی پی لے اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی ایسے شخص کی ہوس کبھی ختم نہ ہوگی۔ کروڑوں حاصل کر کے بھی مزید کروڑوں کی خواہش اس کا چین اور اطمینان غارت کیے رکھے گی۔