وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Taha ۱۱۷:۲۰

۱۱۷:۲۰
فقلنا يا ادم ان هاذا عدو لك ولزوجك فلا يخرجنكما من الجنة فتشقى ١١٧
فَقُلْنَا يَـٰٓـَٔادَمُ إِنَّ هَـٰذَا عَدُوٌّۭ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ ٱلْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰٓ ١١٧
فَقُلۡنَا
يَٰٓـَٔادَمُ
إِنَّ
هَٰذَا
عَدُوّٞ
لَّكَ
وَلِزَوۡجِكَ
فَلَا
يُخۡرِجَنَّكُمَا
مِنَ
ٱلۡجَنَّةِ
فَتَشۡقَىٰٓ
١١٧
پس گفتیم: «ای آدم! بی‌گمان این (ابلیس) دشمن تو و (دشمن) همسرت است، پس مبادا شما را از بهشت بیرون کند که به رنج (و مشقت) افتی.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

اللہ کی مہربانیوں اور عنایات میں سے ایک عنایت یہ تھی کہ اللہ نے حضرت آدم کو قبل از وقت بتا دیا تھا کہ شیطان تمہیں ستاتی ہے۔ “

اللہ کی مہربانیوں اور عنایات میں سے ایک عنایت یہ تھی کہ اللہ نے حضرت آدم کو قبل از وقت بتا دیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے کیونکہ اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حالانکہ اس سجدے کا حکم اللہ نے خود اس کو دیا تھا۔ اشاراتاً پہلے ہی تخلیق آدم کا منصوبہ بھی بتا دیا تھا۔

فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی (02 : 811) ” ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جائو۔ “ کیونکہ جنت سے نکل کر انسان کو مشقت ، جدوجہد ، بدعملی ، گمراہی ، پریشانیوں ، حیرانیوں ، شوق اور انتظار ، رنج اور محرومی سے دوچار ہوناپڑا۔ اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی ، یہ سب چیزیں جنت سے باہر انسان کے انتظار میں تھیں۔ جب تک آدم جنت میں تھے ان مشقتوں اور مصیبتوں سے محفوظ تھے۔