وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Taha آیه 111

۱۱۱:۲۰
۞ وعنت الوجوه للحي القيوم وقد خاب من حمل ظلما ١١١
۞ وَعَنَتِ ٱلْوُجُوهُ لِلْحَىِّ ٱلْقَيُّومِ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًۭا ١١١
۞ وَعَنَتِﲺ ﲻ
ٱلۡوُجُوهُﲼ
لِلۡحَيِّﲽ
ٱلۡقَيُّومِۖﲾﲿ
وَقَدۡﳀ
خَابَﳁ
مَنۡﳂ
حَمَلَﳃ
ظُلۡمٗاﳄ
١١١ﳅ
و (همۀ) چهره‌ها در برابر (الله) زندۀ پاینده فروتن می‌شود، و آن که (بار) ستم بر دوش دارد، ناکام (و مأیوس) می‌گردد.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:109 تا 20:112

سفارش کا مستقل بالذا ت مؤثر ہونا سراسر باطل ہے۔خدا نہ تو بندوں کے احوال سے بے خبر ہے کہ کوئی اس کو کسی کے بارے میں بتائے اور نہ وہ کمزور ہے کہ کوئی اس پر دباؤ ڈال سکے۔ البتہ بعض خاص احوال میں خود اللہ تعالیٰ ہی کی یہ منشا ہوسکتی ہے کہ وہ کسی کی زبان سے جاری ہونے والی ایک قابلِ لحاظ درخواست کو عزت قبول عطا فرمائے۔

قیامت میں اصل اہمیت اس کی ہوگی کہ کون شخص خود کیا لے کر آیا ہے۔ جس شخص نے موجودہ دنیا میں اپنی زندگی ناحق پر کھڑی کی ہوگی اس کا آخرت میں ناکام ہونا یقینی ہے۔ وہاں صرف وہی لوگ کامیاب ہوں گے جنھوں نے حالت غیب میں اپنے رب کو پہچانا اور اپنی زندگی کو اس کی مرضی کے مطابق ڈھال لیا۔