وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: Sad آیه 42

۴۲:۳۸
اركض برجلك هاذا مغتسل بارد وشراب ٤٢
ٱرْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَـٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌۭ وَشَرَابٌۭ ٤٢
ٱرۡكُضۡﳙ
بِرِجۡلِكَۖﳚﳛ
هَٰذَاﳜ
مُغۡتَسَلُۢﳝ
بَارِدٞﳞ
وَشَرَابٞﳟ
٤٢ﳠ
(به او فرمان دادیم:) پای خود را بر زمین بکوب، (چشمه‌ای می‌جوشد) این (چشمه آبی) خنک برای شستشو و آشامیدنی است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 42 { اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہٰذَا مُغْتَسَلٌم بَارِدٌ وَّشَرَابٌ} ”ذرا اپنا پائوں زمین پر مارو ‘ یہ چشمہ جو جاری ہوا ہے ٹھنڈا پانی ہے غسل کے لیے ہے اور پینے کے لیے۔“ آپ علیہ السلام کے ایڑی مارنے پر زمین سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا۔ اس پانی میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے ایسی شفا رکھ دی کہ اس سے نہانے اور اس کو پینے سے آپ علیہ السلام صحت یاب ہوگئے۔ ممکن ہے اس پانی میں گندھک کے اثرات ہوں۔ ایسے چشمے بعض مقامات پر آج بھی دیکھنے میں آتے ہیں جن میں نہانے سے جلدی امراض کے مریض شفایاب ہوجاتے ہیں۔