وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Sad آیه 39

۳۹:۳۸
هاذا عطاونا فامنن او امسك بغير حساب ٣٩
هَـٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍۢ ٣٩
هَٰذَاﲾ
عَطَآؤُنَاﲿ
فَٱمۡنُنۡﳀ
أَوۡﳁ
أَمۡسِكۡﳂ
بِغَيۡرِﳃ
حِسَابٖﳄ
٣٩ﳅ
این عطای ماست، پس (به هر کس می‌خواهی) ببخش، و یا نگه دار، حسابی بر تو نیست.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 38:34 تا 38:40

ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔