وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Sad ۲۴:۳۸

۲۴:۳۸
قال لقد ظلمك بسوال نعجتك الى نعاجه وان كثيرا من الخلطاء ليبغي بعضهم على بعض الا الذين امنوا وعملوا الصالحات وقليل ما هم وظن داوود انما فتناه فاستغفر ربه وخر راكعا واناب ۩ ٢٤
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْخُلَطَآءِ لَيَبْغِى بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَقَلِيلٌۭ مَّا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّـٰهُ فَٱسْتَغْفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّ رَاكِعًۭا وَأَنَابَ ۩ ٢٤
قَالَ
لَقَدۡ
ظَلَمَكَ
بِسُؤَالِ
نَعۡجَتِكَ
إِلَىٰ
نِعَاجِهِۦۖ
وَإِنَّ
كَثِيرٗا
مِّنَ
ٱلۡخُلَطَآءِ
لَيَبۡغِي
بَعۡضُهُمۡ
عَلَىٰ
بَعۡضٍ
إِلَّا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
وَقَلِيلٞ
مَّا
هُمۡۗ
وَظَنَّ
دَاوُۥدُ
أَنَّمَا
فَتَنَّٰهُ
فَٱسۡتَغۡفَرَ
رَبَّهُۥ
وَخَرَّۤ
رَاكِعٗاۤ
وَأَنَابَ ۩
٢٤
(داوود) گفت: به راستی او با در خواست یک میش تو که آن را به میش‌هایش بیفزاید بر تو ستم کرده است، و البته بسیاری از شریکان به یکدیگر ستم می‌کنند، مگر کسانی‌که ایمان آورده‌اند و کار‌های شایسته انجام داده‌اند، و اینان (نیز) اندک هستند. و داوود دانست که ما او را آزموده‌ایم، پس از پروردگارش آمرزش خواست، (و فروتنانه) به (رکوع =) سجده افتاد و (به سوی الله) رجوع کرد.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

قال لقد۔۔۔ ماھم (38: 24) ” داؤد نے جواب دیا اس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملالینے کا مطالبہ کرکے یقیناً تجھ پر ظلم کیا اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر رہنے والے اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں۔ بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے ہوں اور عمل صالح کرتے ہیں اور ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں “۔ خلطاء سے مراد قربا جو اکٹھے ہوتے رہتے ہیں۔ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اشخاص اس مرحلے پر غائب ہوگئے کیونکہ یہ فرشتے تھے اور امتحان لینے آئے تھے یعنی اس نبی کا امتحان مطلوب تھا جسے اللہ نے عوام الناس کا حاکم اور سربراہ اور جج بنایا تھا۔ اور حکم دیا تھا کہ لوگوں کے درمیان عدل کے مطابق فیصلہ کریں۔ اور فیصلہ سنانے سے قبل مقدمات کی اچھی طرح تفتیش کریں۔ امتحان اس طرح زیادہ شدید ہوجاتا ہے جب ان کے سامنے ایک ایسا مقدمہ پیش کیا جاتا ہے تو بادی النظر میں صریح ظلم نظر آتا ہے لیکن ایک جج کا یہ رویہ ہوتا ہے کہ وہ کسی فریق کی بات سے متاثر نہ ہو وہ جلدی میں فیصلہ نہ کرے ۔ محض ظاہری باتوں یا حالات پر فیصلہ نہ کرے۔ بیان دعویٰ کے مقابلے میں جواب دعویٰ طلب کرے ۔ کیونکہ بعض اوقات جواب دعویٰ سننے سے دعویٰ کی حیثیت ہی بدل جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ بیان دعویٰ اگر ظاہراً درست ہے مگر درحقیقت مسئلہ کی نوعیت دوسری ہے ۔ یا یہ کہ مدعی بعض باتیں چھپا رہا ہے اور دھوکہ دے رہا ہے۔ اس مقام پر داؤد (علیہ السلام) کو یہ خیال آیا کہ یہ معاملہ کوئی حقیقی مقدمہ نہ تھا بلکہ پرچہ امتحان تھا۔

وظن داود انما فتنه (38: 24) ” اب داؤد کو یقین ہوگیا کہ ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے “۔ یہاں اب ان کا اصل مزاج سامنے آتا ہے۔ وہ تو ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

فاستغفر ۔۔۔۔ اناب (38: 24) ” السجدۃ “” چناچہ اسنے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کرلیا “۔