وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Hud ۸۷:۱۱

۸۷:۱۱
قالوا يا شعيب اصلاتك تامرك ان نترك ما يعبد اباونا او ان نفعل في اموالنا ما نشاء انك لانت الحليم الرشيد ٨٧
قَالُوا۟ يَـٰشُعَيْبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِىٓ أَمْوَٰلِنَا مَا نَشَـٰٓؤُا۟ ۖ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلْحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ ٨٧
قَالُواْ
يَٰشُعَيۡبُ
أَصَلَوٰتُكَ
تَأۡمُرُكَ
أَن
نَّتۡرُكَ
مَا
يَعۡبُدُ
ءَابَآؤُنَآ
أَوۡ
أَن
نَّفۡعَلَ
فِيٓ
أَمۡوَٰلِنَا
مَا
نَشَٰٓؤُاْۖ
إِنَّكَ
لَأَنتَ
ٱلۡحَلِيمُ
ٱلرَّشِيدُ
٨٧
گفتند: «ای شعیب! آیا نمازت به تو فرمان می‌دهد که آنچه را که نیاکان‌مان می‌پرستیدند، رها کنیم، یا آنچه را می‌خواهیم در اموال‌مان انجام دهیم؟! بی‌گمان تو (مردی) بردبار عاقلی هستی!».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
پرانے معبودوں سے دستبرداری سے انکار ٭٭

اعمش فرماتے ہیں صلواۃ سے مراد یہاں قرأت ہے۔ وہ لوگ ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ واہ آپ اچھے رہے کہ آپ کو آپ کی قرآت نے حکم دیا کہ ہم باپ دادوں کی روش کو چھوڑ کر اپنے پرانے معبودوں کی عبادت سے دست بردار ہو جائیں۔ یہ اور بھی لطف ہے کہ ہم اپنے مال کے بھی مالک نہ رہیں کہ جس طرح جو چاہیں اس میں تصرف کریں کسی کو ناپ تول میں کم نہ دیں۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”واللہ واقعہ یہی ہے کہ شعیب علیہ السلام کی نماز کا حکم یہی تھا کہ آپ علیہ السلام انہیں غیر اللہ کی عبادت اور مخلوق کے حقوق کے غصب سے روکیں۔‏“

ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ان کے اس قول کا مطلب کہ جو ہم چاہیں، اپنے مالوں میں کریں یہ ہے کہ زکوٰۃ کیوں دیں؟ نبی اللہ علیہ السلام کو ان کا حلیم و رشید کہنا ازراہ مذاق و حقارت تھا۔‏“

صفحہ نمبر3902