وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Hud ۶:۱۱

۶:۱۱
۞ وما من دابة في الارض الا على الله رزقها ويعلم مستقرها ومستودعها كل في كتاب مبين ٦
۞ وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّۭ فِى كِتَـٰبٍۢ مُّبِينٍۢ ٦
۞ وَمَا
مِن
دَآبَّةٖ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
إِلَّا
عَلَى
ٱللَّهِ
رِزۡقُهَا
وَيَعۡلَمُ
مُسۡتَقَرَّهَا
وَمُسۡتَوۡدَعَهَاۚ
كُلّٞ
فِي
كِتَٰبٖ
مُّبِينٖ
٦
و هیچ جنبنده‌ای در زمین نیست؛ مگر اینکه روزی‌اش بر (عهدۀ) الله است، و (او) قرار گاه و مکان دفنش را می‌داند، همۀ این‌ها در کتابی روشن (ثبت) است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
ہر مخلوق کا روزی رساں ٭٭

ہر ایک چھوٹی بڑی، خشکی، تری کی مخلوق کا روزی رساں ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی ان کے چلنے پھرنے آنے جانے، رہنے سہنے، مرنے جینے اور ماں کے رحم میں قرار پکڑنے اور باپ کی پیٹھ کی جگہ کو جانتا ہے۔ امام بن ابی حاتم نے اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کرام کے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں «فَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

یہ تمام باتیں اللہ کے پاس کی واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں جسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے جانور اور اپنے پروں پر اڑنے والے پرند سب کے سب تم جیسی ہی امتیں ہیں، ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے “۔

اور فرمان ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [6-الأنعام:59] ‏ یعنی ” غیب کی کنجیاں اسی اللہ کے پاس ہیں۔ انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ خشکی تری کی تمام چیزوں کا اسے علم ہے جو پتہ جھڑتا ہے اس کے علم میں ہے کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور کوئی تر و خشک چیز ایسی نہیں جو واضح کتاب میں نہ ہو “۔

صفحہ نمبر3797