وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Hud ۳۲:۱۱

۳۲:۱۱
قالوا يا نوح قد جادلتنا فاكثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان كنت من الصادقين ٣٢
قَالُوا۟ يَـٰنُوحُ قَدْ جَـٰدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَٰلَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ٣٢
قَالُواْ
يَٰنُوحُ
قَدۡ
جَٰدَلۡتَنَا
فَأَكۡثَرۡتَ
جِدَٰلَنَا
فَأۡتِنَا
بِمَا
تَعِدُنَآ
إِن
كُنتَ
مِنَ
ٱلصَّٰدِقِينَ
٣٢
(قوم) گفتند: «ای نوح! به راستی که با ما جدال (و بحث) کردی، و زیاد هم جدال و بحث کردی، پس اگر از راستگویانی آنچه را که به ما وعده می‌دهی؛ بیاور».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 11:32 تا 11:34
قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت ٭٭

قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ ” عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ “۔

آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بے سود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری مخلوق کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‏“

صفحہ نمبر3834