وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۱۱۷:۱۱
وما كان ربك ليهلك القرى بظلم واهلها مصلحون ١١٧
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍۢ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ ١١٧
وَمَا
كَانَ
رَبُّكَ
لِيُهۡلِكَ
ٱلۡقُرَىٰ
بِظُلۡمٖ
وَأَهۡلُهَا
مُصۡلِحُونَ
١١٧
و (ای پیامبر!) پروردگارت چنین نبود که شهرها (و آبادی‌ها) را به ظلم نابود کند، در حالی‌که اهل آن (افرادی شایسته و) نیکوکار باشند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 11:116 تا 11:117
نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ ٭٭

یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گزشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں، یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا «وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» [3-آل عمران:104] ‏ ” بھلائی اور نیکی کی دعوت دینے والی ایک جماعت تم میں ہر وقت موجود رہنی چاہیئے “، الخ۔

ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے۔ نیک علماء کے فرمان کی طرف توجہ بھی نہیں کریتے یہاں تک کہ اللہ کے عذاب ان کی بے خبری میں ان پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ بھلی بستیوں پر اللہ کی طرف سے از راہ ظلم عذاب کبھی آتے ہی نہیں۔ آیت میں ہے «وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَـٰكِن ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ» [11-ھود:101] ‏ ” ہم ظلم سے پاک ہیں لیکن خود ہی وہ اپنی جانوں پر مظالم کرنے لگتے ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ» [41-فصلت:46] ‏ ” تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں “۔

صفحہ نمبر3936