وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Hud آیه 110

۱۱۰:۱۱
ولقد اتينا موسى الكتاب فاختلف فيه ولولا كلمة سبقت من ربك لقضي بينهم وانهم لفي شك منه مريب ١١٠
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ فَٱخْتُلِفَ فِيهِ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ مُرِيبٍۢ ١١٠
وَلَقَدۡﱘ
ءَاتَيۡنَاﱙ
مُوسَىﱚ
ٱلۡكِتَٰبَﱛ
فَٱخۡتُلِفَﱜ
فِيهِۚﱝﱞ
وَلَوۡلَاﱟ
كَلِمَةٞﱠ
سَبَقَتۡﱡ
مِنﱢ
رَّبِّكَﱣ
لَقُضِيَﱤ
بَيۡنَهُمۡۚﱥﱦ
وَإِنَّهُمۡﱧ
لَفِيﱨ
شَكّٖﱩ
مِّنۡهُﱪ
مُرِيبٖﱫ
١١٠ﱬ
و به راستی (ما) به موسی کتاب دادیم، پس در آن اختلاف شد، و اگر فرمان پیشین پروردگارت نبود، قطعاً در میان آنان داوری می‌شد، و همانا آن‌ها در این (قرآن) سخت در شک و تردید هستند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 11:110 تا 11:111

’’موسی کی کتاب میں اختلاف‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخاطبین اس کے بیانات کے بارے میں کئی رائے ہوگئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے جھٹلایا اور کچھ لوگوں نے تسلیم کیا (فَاخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ قَوْمُ مُوسَى فَكَذَّبَ بِهِ بَعْضُهُمْ، وَصَدَّقَ بِهِ بَعْضُهُمْ) تفسیر الطبری، جلد 12 ، صفحہ 592 ۔

جب بھی کوئی بات کہی جائے تو آدمی اس کے بارے میں ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتاہے۔ ایک، صحیح تعبیر۔ دوسري، غلط تعبیر۔ اگر سننے والے فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ ہمیشہ ایک ہی صحیح تعبیر تک پہنچیں گے۔ ان کی سنجیدگی ان کے لیے اتحاد رائے کی ضامن بن جائے گی۔ اس کے برعکس، اگر وہ بات کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو وہ اس کو کوئی اہمیت نہ دیں گے اور اپنے خیال کے مطابق اس کی مختلف تعبیریں کریں گے۔ کوئی ایک بات کہے گا، کوئی دوسری بات۔ اس طرح ان کی غیر سنجیدگی انھیں اختلاف رائے تک پہنچا دے گی۔

یہ صورت تمام پیغمبروں کے ساتھ پیش آئی۔ اس کے باوجود خدا اس کو گوارا کرتا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو عمل کی جگہ بنایا ہے اور اگلی آنے والی دنیا کو بدلہ پانے کی جگہ۔ خدا کی یہی سنت ہے جس کی بنا پر لوگوں کو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ موجودہ صورتِ حال اسی مہلت امتحان کی بنا پر ہے، نہ کہ خدا کے عجز یا لوگوں کے کسی استحقاق کی بنا پر۔