وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Hud آیه 109

۱۰۹:۱۱
فلا تك في مرية مما يعبد هاولاء ما يعبدون الا كما يعبد اباوهم من قبل وانا لموفوهم نصيبهم غير منقوص ١٠٩
فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّمَّا يَعْبُدُ هَـٰٓؤُلَآءِ ۚ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبْلُ ۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍۢ ١٠٩
فَلَاﱁ
تَكُﱂ
فِيﱃ
مِرۡيَةٖﱄ
مِّمَّاﱅ
يَعۡبُدُﱆ
هَٰٓؤُلَآءِۚﱇﱈ
مَاﱉ
يَعۡبُدُونَﱊ
إِلَّاﱋ
كَمَاﱌ
يَعۡبُدُﱍ
ءَابَآؤُهُمﱎ
مِّنﱏ
قَبۡلُۚﱐﱑ
وَإِنَّاﱒ
لَمُوَفُّوهُمۡﱓ
نَصِيبَهُمۡﱔ
غَيۡرَﱕ
مَنقُوصٖﱖ
١٠٩ﱗ
پس از (باطل بودن) آنچه اینان می‌پرستند در شک مباش. آن‌ها نمی‌پرستند جز همان‌گونه که نیاکان‌شان از پیش می‌پرستیدند، و مسلماً ما نصیب آنان را بی کم و کاست خواهیم داد.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 11:106 تا 11:109

قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں ديے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر كيے جائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنی کاركردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

اس اہمیت اور تکرارکی وجہ لوگوں کا ’’شک‘‘ ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزاررہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروںکو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔

اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتاہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لیے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیرحق پر چلنا اس لیے نہیں ہے کہ انھوںنے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پاکر اسے اختیار کرلیا۔ اس کا سبب دراصل رواج کی پیروی ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔

اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلتِ امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لیے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔