وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Ghafir آیه 15

۱۵:۴۰
رفيع الدرجات ذو العرش يلقي الروح من امره على من يشاء من عباده لينذر يوم التلاق ١٥
رَفِيعُ ٱلدَّرَجَـٰتِ ذُو ٱلْعَرْشِ يُلْقِى ٱلرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ لِيُنذِرَ يَوْمَ ٱلتَّلَاقِ ١٥
رَفِيعُﲪ
ٱلدَّرَجَٰتِﲫ
ذُوﲬ
ٱلۡعَرۡشِﲭ
يُلۡقِيﲮ
ٱلرُّوحَﲯ
مِنۡﲰ
أَمۡرِهِۦﲱ
عَلَىٰﲲ
مَنﲳ
يَشَآءُﲴ
مِنۡﲵ
عِبَادِهِۦﲶ
لِيُنذِرَﲷ
يَوۡمَﲸ
ٱلتَّلَاقِﲹ
١٥ﲺ
(او) بالا برنده درجات [ یا او صاحب درجات بلند است.] صاحب عرش، که روح (= وحی) را به فرمان خویش بر هر کس از بندگانش که بخواهد می‌فرستد، تا (او مردم را) از روز ملاقات (= قیامت) بترساند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 40:13 تا 40:17

کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو تمثیل کی زبان میں حقیقت کا درس دے رہی ہيں۔ انھیں میں سے ایک نشانی بارش کا نظام ہے۔ یہ مادّی واقعہ وحی کے معنوی معاملہ کو ممثل کررہا ہے۔ جس طرح بارش زرخیز زمین کےلیے مفید ہے اور بنجر زمین کےلیے غیر مفید، اسی طرح وحی بھی خدا کی معنوی بارش ہے۔ جن لوگوں نے اپنے سینے کھلے رکھے ہوں ان کے اندر یہ بارش داخل ہو کر ان کے وجود کو سرسبز وشاداب کردیتی ہے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے دل غیر خدائی بڑائیوں سے بھرے ہوئے ہوں وہ گویا بنجر زمین ہیں۔ وہ وحی کے فائدوں سے محروم رہیں گے۔

اللہ اپنے بند وں سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ جس بندہ کو اہل پاتا ہے اس کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چن لیتاہے۔ اس پیغام کا خاص نشانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو آنے والے دن سے آگاہ کیا جائے جب کہ وہ بادشاہ کائنات کے سامنے کھڑے کيے جائیںگے جس سے کسی کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ اور نہ کوئی ہے جو اس کے فیصلہ پر اثر اندازہوسکے۔