وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Ghafir آیه 11

۱۱:۴۰
قالوا ربنا امتنا اثنتين واحييتنا اثنتين فاعترفنا بذنوبنا فهل الى خروج من سبيل ١١
قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا ٱثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا ٱثْنَتَيْنِ فَٱعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَىٰ خُرُوجٍۢ مِّن سَبِيلٍۢ ١١
قَالُواْﱲ
رَبَّنَآﱳ
أَمَتَّنَاﱴ
ٱثۡنَتَيۡنِﱵ
وَأَحۡيَيۡتَنَاﱶ
ٱثۡنَتَيۡنِﱷ
فَٱعۡتَرَفۡنَاﱸ
بِذُنُوبِنَاﱹ
فَهَلۡﱺ
إِلَىٰﱻ
خُرُوجٖﱼ
مِّنﱽ
سَبِيلٖﱾ
١١ﱿ
گویند: «پروردگارا! ما را دوبار میراندی و دو بار زنده کردی [ این آیه همانند آیه سورۀ بقره است (تفسیر ابن کثیر).]، پس (اکنون) به گناهان خود اعتراف کردیم، آیا راهی برای خروج (از جهنم) وجود دارد؟»
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 40:10 تا 40:12

موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی شکل میں اپنی رحمت بھیجی۔ مگر لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا۔ اس کا انجام آخرت میں یہ سامنے آئے گا کہ اس قسم کے لوگ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کردئے جائیںگے۔ دنیا میں انھوں نے خدا کی رحمت کو نظر انداز کیا تھا، آخرت میں خدا کی رحمت انھیں نظر انداز کردے گی۔

اس وقت انکار کرنے والے لوگ کہیں گے کہ خدایا، تو نے ہم کو مٹی سے پیدا کیا۔ گویا کہ ہم مُردہ تھے پھر تو نے ہمارے اندر جان ڈالی۔ اس کے بعد اپنی عمر پوری کرکے دوسری بار ہم پر موت آئی۔ اور اب ہم دوبارہ آخرت کی دنیا میں اٹھائے گئے ہیں۔ اس طرح تو ہم کو دوبارموت اور دوبار زندگی دے چکا ہے۔ اب اگر تو ہم کو تیسرا موقع دے اور پھر ہم کو دنیا میں بھیج دے کہ ہم وہاں رہیں اور پھر مر کر عالم آخرت میں حاضر ہوں تو ہم وہاں تیری سچائی کا اعتراف کریں گے اور نیک عمل کی زندگی گزاریں گے۔

مگر ان کی یہ درخواست سنی نہیں جائے گی۔ کیوں کہ انھوں نے اپنے بارے میں یہ ثبوت دیا کہ وہ سچائی کا ادراک اس وقت نہیں کرسکتے جب کہ سچائی ابھی غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ وہ صرف ظاہری خداؤں کو پہچان سکتے ہیں، وہ غیبی خدا کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اور خدا کے یہاں ایسے ظاہر پرستوں کی کوئی قیمت نہیں۔