وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Az-Zumar ۷۵:۳۹

۷۵:۳۹
وترى الملايكة حافين من حول العرش يسبحون بحمد ربهم وقضي بينهم بالحق وقيل الحمد لله رب العالمين ٧٥
وَتَرَى ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ حَآفِّينَ مِنْ حَوْلِ ٱلْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ۖ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْحَقِّ وَقِيلَ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٧٥
وَتَرَى
ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ
حَآفِّينَ
مِنۡ
حَوۡلِ
ٱلۡعَرۡشِ
يُسَبِّحُونَ
بِحَمۡدِ
رَبِّهِمۡۚ
وَقُضِيَ
بَيۡنَهُم
بِٱلۡحَقِّۚ
وَقِيلَ
ٱلۡحَمۡدُ
لِلَّهِ
رَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
٧٥
و فرشتگان را می‌بینی که بر گرد عرش حلقه زده‌اند به ستایش پروردگار‌شان تسبیح می‌گویند، و در میان مردم به حق داوری می‌شود، و گفته شود: «حمد و ستایش مخصوص الله پروردگار جهانیان است».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
روز قیامت انصاف کے ساتھ فیصلہ ہو گا ٭٭

جبکہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کا فیصلہ سنا دیا اور انہیں ان کے ٹھکانے پہنچائے جانے کا حال بھی بیان کر دیا۔ اور اس میں اپنے عدل و انصاف کا ثبوت بھی دے دیا، تو اس آیت میں فرمایا کہ ” قیامت کے روز اس وقت تو دیکھے گا کہ فرشتے اللہ کے عرش کے چاروں طرف کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح بزرگی اور بڑائی بیان کر رہے ہوں گے “۔

ساری مخلوق میں عدل و حق کے ساتھ فیصلے ہو چکے ہوں گے۔ اس سراسر عدل اور بالکل رحم والے فیصلوں پر کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی ثنا خوانی کرنے لگے گا اور جاندار چیز سے آواز آئے گی کہ «‏الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» چونکہ اس وقت ہر اک تر و خشک چیز اللہ کی حمد بیان کرے گی اس لیے یہاں مجہول کا صیغہ لا کر فاعل کو عام کر دیا گیا۔

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں خلق کی پیدائش کی ابتداء بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» [6-الأنعام:1] ‏ اور مخلوق کی انتہا بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [39-الزمر:75] ‏۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الزمر کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر7895