وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Az-Zumar ۱۶:۳۹

۱۶:۳۹
لهم من فوقهم ظلل من النار ومن تحتهم ظلل ذالك يخوف الله به عباده يا عباد فاتقون ١٦
لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌۭ مِّنَ ٱلنَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌۭ ۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ ٱللَّهُ بِهِۦ عِبَادَهُۥ ۚ يَـٰعِبَادِ فَٱتَّقُونِ ١٦
لَهُم
مِّن
فَوۡقِهِمۡ
ظُلَلٞ
مِّنَ
ٱلنَّارِ
وَمِن
تَحۡتِهِمۡ
ظُلَلٞۚ
ذَٰلِكَ
يُخَوِّفُ
ٱللَّهُ
بِهِۦ
عِبَادَهُۥۚ
يَٰعِبَادِ
فَٱتَّقُونِ
١٦
برای آن‌ها از بالای (سر) شان سایبان‌هایی از آتش، و در زیر (پای) شان (نیز) سایبان‌هایی است، این (چیزی) است که الله با آن بندگانش را می‌ترساند، ای بندگان من! از من بترسید.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 39:13 تا 39:16
نافرمانوں کے لئے قیامت کے دن کا عذاب ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن عذاب الٰہی سے بے خوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہیئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کر دو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو “۔

اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہو جائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں گئے تو وہاں برائی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور رہیں اور محزون و مغموم ہیں۔ یہی واضح نقصان ہے۔ پھر ان کا حال جو جہنم میں ہو گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اوپر تلے آگ ہی آگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ» [7-الأعراف:41] ‏۔ یعنی ” ان کا اوڑھنا بچھونا سب آتش جہنم سے ہو گا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے “۔

اور آیت میں ہے «‏يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ‏ [29-العنكبوت:55] ‏ ” قیامت والے دن انہیں نیچے اوپر سے عذاب ہو رہا ہو گا۔ اور اوپر سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کا مزہ چکھو “۔ یہ اس لیے ظاہر و باہر کر دیا گیا اور کھول کھول کر اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ اس حقیقی عذاب سے جو یقیناً آنے والا ہے میرے بندے خبردار ہو جائیں اور گناہوں اور نافرمانیوں کو چھوڑ دیں۔ میرے بندو میری پکڑ دھکڑ سے میرے عذاب و غضب سے میرے انتقام اور بدلے سے ڈرتے رہو۔

صفحہ نمبر7796