وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: An-Naml آیه 51

۵۱:۲۷
فانظر كيف كان عاقبة مكرهم انا دمرناهم وقومهم اجمعين ٥١
فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَـٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ ٥١
فَٱنظُرۡﲏ
كَيۡفَﲐ
كَانَﲑ
عَٰقِبَةُﲒ
مَكۡرِهِمۡﲓ
أَنَّاﲔ
دَمَّرۡنَٰهُمۡﲕ
وَقَوۡمَهُمۡﲖ
أَجۡمَعِينَﲗ
٥١ﲘ
پس بنگر عاقبت نیرنگ‌شان چه شد؟! ما آن‌ها و قوم‌شان همگی را نابود کردیم.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 27:48 تا 27:53

قوم میں نو بڑے سردار تھے۔وہ اپنے کو بڑا باقی رکھنے کے ليے حق کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ اور اس قسم کی کوشش بلا شبہ خدا کی زمین میں سب سے بڑا فساد ہے۔

ان سرداروں نے آخری مرحلہ میں حضرت صالح کو ہلاک کرنے کی سازش کی۔ مگر قبل اس کے کہ وہ اپنے خفیہ منصوبہ کے مطابق حضرت صالح کے خلاف کوئی اقدام کریں، خدا نے خود ان کو پکڑ لیا۔ وہ اپنی ساری بڑائی کے باوجود اس طرح برباد کردئے گئے کہ ان کی قدیم بستیوں میں اب صرف ان کے ٹوٹے ہوئے کھنڈر ان کی یادگار كے طور پر باقی رہ گئے ہیں۔

اس قسم کے تاریخی واقعات میں زبردست سبق چھپا ہوا ہے۔ مگر اس سبق کو وہی شخص پائے گا جو اس کو قانونِ الٰہی سے جوڑے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اس کو اسباب ِطبیعی سے جوڑیں وہ اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کرسکتے۔