وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: An-Naml آیه 39

۳۹:۲۷
قال عفريت من الجن انا اتيك به قبل ان تقوم من مقامك واني عليه لقوي امين ٣٩
قَالَ عِفْرِيتٌۭ مِّنَ ٱلْجِنِّ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ ۖ وَإِنِّى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِينٌۭ ٣٩
قَالَﱬ
عِفۡرِيتٞﱭ
مِّنَﱮ
ٱلۡجِنِّﱯ
أَنَا۠ﱰ
ءَاتِيكَﱱ
بِهِۦﱲ
قَبۡلَﱳ
أَنﱴ
تَقُومَﱵ
مِنﱶ
مَّقَامِكَۖﱷﱸ
وَإِنِّيﱹ
عَلَيۡهِﱺ
لَقَوِيٌّﱻ
أَمِينٞﱼ
٣٩ﱽ
عفریتی از جن گفت: «من آن را نزد تو می‌آورم پیش از آنکه از جایت برخیزی، و همانا من بر آن توانای امین هستم».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 27:38 تا 27:40

حضرت سلیمان کے پاس اگرچہ غیر معمولی طاقت تھی۔ مگر انھوں نے استعمالِ طاقت کے بجائے مظاہرۂ طاقت کے ذریعہ قوم سبا کو زیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ آپ نے اپنے خصوصی کارندہ کے ذریعہ ملکہ کے تخت کو مارب (Marib) کے محل سے یروشلم (فلسطین) منگوالیا۔ تخت کو منگانے کا واقعہ غالباً اس وقت پیش آیا جب کہ تحفہ کی واپسی کے بعد ملکہ سبا یمن سے فلسطین کے ليے روانہ ہوئی۔ تاکہ وہ حضرت سلیمان کے دربار میں پہنچ کر براہِ راست آپ سے گفتگو کرے۔ ملکہ سبا کا اپنے خدم وحشم کے ساتھ یہ سفر یقیناً اس وقت ہوا ہوگا جب کہ اس کے سفارتی وفد نے واپس جاکر حضرت سلیمان کی حکمت کی باتیں اور آپ کے غیر معمولی کردار کی شہادت دی اور آپ کی غیر معمولی عظمت کا حال بیان کیا۔

مارب سے یروشلم کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ ہزار میل ہے۔ یہ لمبا فاصلہ اس طرح طے ہوا کہ اِدھر حضرت سلیمان کی زبان سے حکم کے الفاظ نکلے اور ادھر زروجواہر سے جڑا ہوا تخت ان کے سامنے رکھا ہوا موجود تھا۔ اس غیر معمولی قوت کے باوجود حضرت سلیمان کے اندر فخر کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ وہ سرتاپا تواضع بن کر خدا کے آگے جھکے رہے۔