وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: An-Naml آیه 29

۲۹:۲۷
قالت يا ايها الملا اني القي الي كتاب كريم ٢٩
قَالَتْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ إِنِّىٓ أُلْقِىَ إِلَىَّ كِتَـٰبٌۭ كَرِيمٌ ٢٩
قَالَتۡﲏ
يَٰٓأَيُّهَاﲐ
ٱلۡمَلَؤُاْﲑ
إِنِّيٓﲒ
أُلۡقِيَﲓ
إِلَيَّﲔ
كِتَٰبٞﲕ
كَرِيمٌﲖ
٢٩ﲗ
(ملکۀ سبا) گفت: «ای بزرگان، به راستی نامۀ پر ارزشی به سوی من افکنده شده!
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 27:27 تا 27:35

حضرت سلیمان کی قوت وسلطنت ایک خدائی عطیہ تھی۔ اسی طرح آپ نے سبا کی حکومت کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی ایک خدائی معاملہ تھا۔ شاہ عبدالقادر دہلوی آیت 37 کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زورتھا جو یہ فرمایا‘‘۔

ملکہ سبا (بلقیس) نے معاملہ کو خالص حقیقت پسندانہ انداز سے دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ تاہم ملکہ نے ابتدائی اندازوں کے لیے تحفے بھیجنے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلیمان ہماری دولت کے خواہش مند ہیں یا اس سے آگے ان کا ہم سے کوئی اصولی مطالبہ ہے۔