وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: An-Naml آیه 15

۱۵:۲۷
ولقد اتينا داوود وسليمان علما وقالا الحمد لله الذي فضلنا على كثير من عباده المومنين ١٥
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَـٰنَ عِلْمًۭا ۖ وَقَالَا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍۢ مِّنْ عِبَادِهِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٥
وَلَقَدۡﱎ
ءَاتَيۡنَاﱏ
دَاوُۥدَﱐ
وَسُلَيۡمَٰنَﱑ
عِلۡمٗاۖﱒﱓ
وَقَالَاﱔ
ٱلۡحَمۡدُﱕ
لِلَّهِﱖ
ٱلَّذِيﱗ
فَضَّلَنَاﱘ
عَلَىٰﱙ
كَثِيرٖﱚ
مِّنۡﱛ
عِبَادِهِﱜ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَﱝ
١٥ﱞ
و به‌راستی به داوود و سلیمان دانش (عظیمی) دادیم، و (آنان) گفتند: «ستایش از آن الله است که ما را بر بسیاری از بندگان مؤمن خود برتری بخشید».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 27:15 تا 27:16

حضرت داؤد علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبر اور بادشاہ تھے۔ آپ کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام بھی پیغمبر اور بادشاہ ہوئے۔ آپ کی سلطنت فلسطین اور شرق اردن سے لے کر شام تک پھیلی ہوئی تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی صنعتی معلومات دی تھیں۔ نیز آپ کو معجزاتی طور پر کئی چیزیں عطا ہوئی تھیں۔ مثلاً چڑیوں کی بولیاں سمجھنا۔ اور ان کو تربیت دے کر انھیں خبر رسانی وغیرہ کے ليے استعمال کرنا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنے ہم زمانہ لوگوں پر غیر معمولی برتری حاصل تھی۔ مگر اس برتری نے ان کے اندر صرف تواضع کا جذبہ پیدا کیا۔ انھیں جو کچھ حاصل تھا اس کو انھوں نے براہِ راست خدا کا عطیہ قرار دیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ سلطنت 965 ق م سے لے کر 926 ق م تک ہے۔ اس لحاظ سے آپ تقریباً چالیس سال حکمراں رہے۔