وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Fi Zilal al-Quran تفسیر: An-Najm آیه 35

۳۵:۵۳
اعنده علم الغيب فهو يرى ٣٥
أَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰٓ ٣٥
أَعِندَهُۥﲹ
عِلۡمُﲺ
ٱلۡغَيۡبِﲻ
فَهُوَﲼ
يَرَىٰٓﲽ
٣٥ﲾ
آیا نزد او علم غیب است پس او (همه چیز را) می‌بیند؟!
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

اعندہ ............ یری (35 : 53) ” کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔ “ غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ لہٰذا عالم غیب میں انسان کے لئے جو کچھ پوشیدہ ہے انسان اس سے مامون نہیں ہوسکتا۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت نیک عمل کرتا رہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور پوری زندگی میں محتاط رہے اور اپنے اعمال کو تسلسل دے۔ یہ نہ ہو کہ کچھ تھوڑا سا انفاق کرے پھر چھوڑ دے اور غیب مجہول کے دفاع میں اس کو یہی ضمانت حاصل ہے کہ وہ احتیاط کرے اپنے عمل کو جاری رکھے اور مسلسل رکھے اور اللہ کی مغفرت کا امیدوار ہو اور دعا کرے کہ اس کے اعمال قبول ہوں۔