وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tafsir Ibn Kathir تفسیر: An-Nahl آیه 111

۱۱۱:۱۶
۞ يوم تاتي كل نفس تجادل عن نفسها وتوفى كل نفس ما عملت وهم لا يظلمون ١١١
۞ يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍۢ تُجَـٰدِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ١١١
۞ يَوۡمَﱁ ﱂ
تَأۡتِيﱃ
كُلُّﱄ
نَفۡسٖﱅ
تُجَٰدِلُﱆ
عَنﱇ
نَّفۡسِهَاﱈ
وَتُوَفَّىٰﱉ
كُلُّﱊ
نَفۡسٖﱋ
مَّاﱌ
عَمِلَتۡﱍ
وَهُمۡﱎ
لَاﱏ
يُظۡلَمُونَﱐ
١١١ﱑ
(به یاد آورید روز قیامت، آن) روزی‌که هرکس (به دفاع) از خود به مجادله بر می‌خیزد، و به هر کسی (پاداش) آنچه کرده است؛ به طور کامل (و تمام) داده می‌شود، و به آن‌ها ستم نخواهد شد.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 16:110 تا 16:111
صبر و استقامت ٭٭

یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لیے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہوگئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہوگا، کوئی نہ ہو گا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ نہ ثواب گھٹے نہ گناہ بڑھے۔ اللہ ظلم سے پاک ہے۔

صفحہ نمبر4542