وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: An-Nahl ۱۱:۱۶

۱۱:۱۶
ينبت لكم به الزرع والزيتون والنخيل والاعناب ومن كل الثمرات ان في ذالك لاية لقوم يتفكرون ١١
يُنۢبِتُ لَكُم بِهِ ٱلزَّرْعَ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلنَّخِيلَ وَٱلْأَعْنَـٰبَ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ ١١
يُنۢبِتُ
لَكُم
بِهِ
ٱلزَّرۡعَ
وَٱلزَّيۡتُونَ
وَٱلنَّخِيلَ
وَٱلۡأَعۡنَٰبَ
وَمِن
كُلِّ
ٱلثَّمَرَٰتِۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَةٗ
لِّقَوۡمٖ
يَتَفَكَّرُونَ
١١
(الله) با آن (آب) برای شما زراعت و زیتون و (درختان) خرما و تاکستان‌های انگور، و از همه نوع میوه‌ها می‌رویاند. بی‌گمان در این نشانه‌ای است برای گروهی که اندیشه می‌کنند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 16:10 تا 16:11
تمہارے فائدوں کے سامان ٭٭

چوپائے اور دوسرے جانوروں کی پیدائش کا احسان بیان فرما کر مزید احسانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ ” اوپر سے پانی وہی برساتا ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو اور تمہارے فائدے کے جانور بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں میٹھا صاف شفاف خوش گوار اچھے ذائقے کا پانی تمہارے پینے کے کام آتا ہے اس کا احسان نہ ہو تو وہ کھاری اور کڑوا بنادے اسی آب باراں سے درخت اگتے ہیں اور وہ درخت تمہارے جانوروں کا چارہ بنتے ہیں “۔ «سَّوْمُ» کے معنی چرنے کے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:566/7:] ‏۔ اسی وجہ سے اہل سائمہ چرنے والے اونٹوں کو کہتے ہیں۔

ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے سے پہلے چرانے کو منع فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه:2606،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر اس کی قدرت دیکھو کہ ایک ہی پانی سے مختلف مزے کے، مختلف شکل و صورت کے، مختلف خوشبو کے طرح طرح کے پھل پھول وہ تمہارے لیے پیدا کرتا ہے۔ پس یہ سب نشانیاں ایک شخص کو اللہ کی وحدانیت جاننے کے لیے کافی ہیں اسی کا بیان اور آیتوں میں اس طرح ہوا ہے کہ «أَمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ» [27-النمل:60] ‏ ” آسمان و زمین کا خالق، بادلوں سے پانی برسانے والا، ان سے ہرے بھرے باغات پیدا کرنے والا، جن کے پیدا کرنے سے تم عاجز تھے اللہ ہی ہے اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں پھر بھی لوگ حق سے ادھر ادھر ہورہے ہیں “۔

صفحہ نمبر4412