وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: An-Nahl ۱۰۱:۱۶

۱۰۱:۱۶
واذا بدلنا اية مكان اية والله اعلم بما ينزل قالوا انما انت مفتر بل اكثرهم لا يعلمون ١٠١
وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةًۭ مَّكَانَ ءَايَةٍۢ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ١٠١
وَإِذَا
بَدَّلۡنَآ
ءَايَةٗ
مَّكَانَ
ءَايَةٖ
وَٱللَّهُ
أَعۡلَمُ
بِمَا
يُنَزِّلُ
قَالُوٓاْ
إِنَّمَآ
أَنتَ
مُفۡتَرِۭۚ
بَلۡ
أَكۡثَرُهُمۡ
لَا
يَعۡلَمُونَ
١٠١
و هنگامی‌که آیه‌ای را به جای آیۀ دیگر جایگزین (= نسخ) کنیم - و الله به آنچه که نازل می‌کند، داناتر است - (آن‌ها) گویند: «بی‌گمان تو افترا زنی» (هرگز چنین نیست) بلکه بیشتر آن‌ها نمی‌دانند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 16:101 تا 16:102
ازلی بدنصیب لوگ ٭٭

مشرکوں کی عقلی، بے ثباتی اور بے یقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ ” انہیں ایمان کیسے نصیب ہو؟ “ یہ تو ازلی بد نصیب ہیں، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے، حکم دے، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے۔

جیسے آیت «مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [2-البقرة:106] ‏، میں فرمایا ہے۔

” پاک روح (‏یعنی جبرائیل علیہ السلام) اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر تیری جانب آتے ہیں تاکہ ایماندار ثابت قدم ہو جائیں، اب اترا، مانا، پھر اترا، پھر مانا، ان کے دل رب کی طرف جھکتے رہیں، تازہ تازہ کلام الٰہی سنتے رہیں، مسلمانوں کے لیے ہدایت و بشارت ہو جائے، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے راہ یافتہ ہو کر خوش ہو جائیں “۔

صفحہ نمبر4526