وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Al-Qasas آیه 86

۸۶:۲۸
وما كنت ترجو ان يلقى اليك الكتاب الا رحمة من ربك فلا تكونن ظهيرا للكافرين ٨٦
وَمَا كُنتَ تَرْجُوٓا۟ أَن يُلْقَىٰٓ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبُ إِلَّا رَحْمَةًۭ مِّن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرًۭا لِّلْكَـٰفِرِينَ ٨٦
وَمَاﱖ
كُنتَﱗ
تَرۡجُوٓاْﱘ
أَنﱙ
يُلۡقَىٰٓﱚ
إِلَيۡكَﱛ
ٱلۡكِتَٰبُﱜ
إِلَّاﱝ
رَحۡمَةٗﱞ
مِّنﱟ
رَّبِّكَۖﱠﱡ
فَلَاﱢ
تَكُونَنَّﱣ
ظَهِيرٗاﱤ
لِّلۡكَٰفِرِينَﱥ
٨٦ﱦ
و تو امید نداشتی که کتاب (آسمانی) بر تو القا شود، جز این‌که رحمت پروردگارت بود، پس هرگز پشتیبان کافران مباش.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 28:85 تا 28:88

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔

یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔