وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Al-Qasas آیه 63

۶۳:۲۸
قال الذين حق عليهم القول ربنا هاولاء الذين اغوينا اغويناهم كما غوينا تبرانا اليك ما كانوا ايانا يعبدون ٦٣
قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغْوَيْنَآ أَغْوَيْنَـٰهُمْ كَمَا غَوَيْنَا ۖ تَبَرَّأْنَآ إِلَيْكَ ۖ مَا كَانُوٓا۟ إِيَّانَا يَعْبُدُونَ ٦٣
قَالَﱮ
ٱلَّذِينَﱯ
حَقَّﱰ
عَلَيۡهِمُﱱ
ٱلۡقَوۡلُﱲ
رَبَّنَاﱳ
هَٰٓؤُلَآءِﱴ
ٱلَّذِينَﱵ
أَغۡوَيۡنَآﱶ
أَغۡوَيۡنَٰهُمۡﱷ
كَمَاﱸ
غَوَيۡنَاۖﱹﱺ
تَبَرَّأۡنَآﱻ
إِلَيۡكَۖﱼﱽ
مَاﱾ
كَانُوٓاْﱿ
إِيَّانَاﲀ
يَعۡبُدُونَﲁ
٦٣ﲂ
کسانی (از معبودان) که فرمان (عذاب) بر آنان تحقیق یافته است. می‌گویند: «پروردگارا! این‌ها (= عابدان) کسانی‌اند که گمراهشان کردیم؛ (آری) آن‌ها را گمراه کردیم، همان گونه که (خودمان) گمراه شدیم، از آن‌ها به‌سوی تو بیزاری می‌جوییم، آن‌ها (در حقیقت) ما را نمی‌پرستیدند (بلکه آن‌ها شیطان را پرستش می‌کردند)»
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 28:62 تا 28:63

یہاں ’’شریک‘‘ سے مراد گمراہ لیڈر ہیں۔ یعنی وہ بڑے لوگ جن کی بات لوگوں نے اس طرح مانی جس طرح خدا کی بات ماننی چاہيے۔ قیامت میں جب ان بڑوں کا ساتھ دینے والے لوگ اپنا برا انجام دیکھیں گے تو ان کاعجیب حال ہوگا۔ وہ پائیں گے کہ جن بڑوں سے وابستہ ہونے پر وہ فخر کرتے تھے، ان بڑوں نے انھیں صرف جہنم تک پہنچایا ہے۔ اس وقت وہ بے زار ہو کر ان سے کہیں گے کہ ہماری بربادی کے ذمہ دار تم ہو۔ ان کے بڑے جواب دیں گے کہ تمھاری اپنی ذات کے سوا کوئی تمھاری بربادی کا ذمہ دار نہیں۔ اگر چہ بظاہر تم ہمارے کہنے پر چلے مگر ہمارا ساتھ تم نے ا س ليے دیا کہ ہماری بات تمھاری خواہشات کے مطابق تھی، تم در حقیقت اپنی خواہشات کے پیرو تھے، نہ کہ ہمارے پیرو۔ ہم بھی اپنی خواہشات پر چلے اور تم بھی اپنی خواہشات پر چلے۔ اب دونوں کو ایک ہی انجام بھگتنا ہے۔ ایک دوسرے کو برا کہنے سے کوئی فائدہ نہیں۔