وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Al-Munafiqun آیه 6

۶:۶۳
سواء عليهم استغفرت لهم ام لم تستغفر لهم لن يغفر الله لهم ان الله لا يهدي القوم الفاسقين ٦
سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَـٰسِقِينَ ٦
سَوَآءٌﱐ
عَلَيۡهِمۡﱑ
أَسۡتَغۡفَرۡتَﱒ
لَهُمۡﱓ
أَمۡﱔ
لَمۡﱕ
تَسۡتَغۡفِرۡﱖ
لَهُمۡﱗ
لَنﱘ
يَغۡفِرَﱙ
ٱللَّهُﱚ
لَهُمۡۚﱛﱜ
إِنَّﱝ
ٱللَّهَﱞ
لَاﱟ
يَهۡدِيﱠ
ٱلۡقَوۡمَﱡ
ٱلۡفَٰسِقِينَﱢ
٦ﱣ
برای آن‌ها یکسان است که برایشان آمرزش بخواهی یا آمرزش نخواهی، الله هرگز آنان را نمی‌بخشد، بی‌گمان الله قوم نافرمان را هدایت نمی‌کند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 63:4 تا 63:6

منافق آدمی مصلحت پرستی کے ذریعہ اپنے مفادات کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ حق ناحق کی بحث میں نہیں پڑتا۔ اس لیے ہر ایک سے اس کا بناؤ رہتا ہے۔ اس کی زندگی غم سے خالی ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اس کے جسم کو فربہ بنا دیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے مزاج کی رعایت کرکے بولتا ہے۔ اس لیے اس کی باتوں میں ہر ایک اپنے لیے دل چسپی کا سامان پا لیتا ہے۔ مگر یہ بظاہر ہرے بھرے درخت حقیقۃً صرف سوکھی لکڑیاں ہوتے ہیں جن میں کوئی زندگی نہ ہو۔ وہ اندر سے بزدل ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کا دنیوی مفاد ہر دینی مفاد سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ایسے لوگ ایمان کے بلند بانگ مدعی ہونے کے باوجود خدا کی ہدایت سے یکسر محروم ہیں۔