وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: Al-Ma'arij آیه 41

۴۱:۷۰
على ان نبدل خيرا منهم وما نحن بمسبوقين ٤١
عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًۭا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ٤١
عَلَىٰٓﱁ
أَنﱂ
نُّبَدِّلَﱃ
خَيۡرٗاﱄ
مِّنۡهُمۡﱅ
وَمَاﱆ
نَحۡنُﱇ
بِمَسۡبُوقِينَﱈ
٤١ﱉ
بر آن که (کسانی دیگر) بهتر از آن‌ها را جایگزین کنیم، و ما (برای این کار) عاجز و ناتوان نیستیم.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 41{ عَلٰٓی اَنْ نُّـبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْہُمْ لا } ”اس پر کہ ہم ان کو ہٹاکر ان سے بہتر لوگ لے آئیں“ یعنی ہم انہیں ختم کر کے ان کی جگہ کسی اور قوم کے افراد کو لے آئیں گے ‘ جو ان سے بہتر ہوں گے۔ جیسے قوم نوح کو ختم کر کے قوم عاد کو پیدا کیا گیا اور پھر قوم عاد کے بعد قوم ثمود کو عروج بخشا گیا۔ اس فقرے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ آخرت میں ہم انہیں جو جسم دیں گے وہ ان کے موجودہ جسموں سے بہتر ہوں گے۔ اس بارے میں سورة الواقعہ ‘ آیت 61 اور سورة الدھر ‘ آیت 28 میں تو یہ اشارہ ملتا ہے کہ آخرت میں انسانوں کو جو جسم دیے جائیں گے وہ ان کے دنیا والے جسموں جیسے ہوں گے ‘ لیکن زیر مطالعہ آیت کے مذکورہ مفہوم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں کو آخرت میں دیے جانے والے جسم ان کے دنیا والے جسموں سے بہتر ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو وہ جسم ان کے دنیا والے جسموں جیسے ہی ہوں گے ‘ لیکن برداشت وغیرہ کے حوالے سے ان سے کہیں بڑھ کر ہوں گے۔ مثلاً جہنم کی آگ جو دنیا کی آگ سے کہیں زیادہ گرم اور شدید ہوگی جب انسانوں کو جلائے گی تو وہ جل کر راکھ نہیں بن جائیں گے ‘ بلکہ اس کی تپش کو برداشت کریں گے۔ اہل جہنم کے جسموں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوگی کہ ان کی کھالیں جل جانے کے بعد پھر سے اپنی اصل حالت پر آجائیں گی۔ بہرحال آخرت میں ان لوگوں کو جو جسم دیے جائیں گے وہ خصوصی طور پر آخرت کی سختیاں جھیلنے کے لیے بنائے جائیں گے۔ وہ سختیاں جو دنیا کی سختیوں سے کہیں بڑھ کر ہوں گی۔ { وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ۔ } ”اور اس معاملے میں ہم ہارے ہوئے نہیں ہیں۔“ ہم ان کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کریں ‘ وہ ہماری گرفت سے نکل نہیں سکیں گے۔