وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Kahf ۵۴:۱۸

۵۴:۱۸
ولقد صرفنا في هاذا القران للناس من كل مثل وكان الانسان اكثر شيء جدلا ٥٤
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍۢ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ أَكْثَرَ شَىْءٍۢ جَدَلًۭا ٥٤
وَلَقَدۡ
صَرَّفۡنَا
فِي
هَٰذَا
ٱلۡقُرۡءَانِ
لِلنَّاسِ
مِن
كُلِّ
مَثَلٖۚ
وَكَانَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
أَكۡثَرَ
شَيۡءٖ
جَدَلٗا
٥٤
و به راستی در این قرآن، هر گونه مثلی برای مردم بیان کرده‌ایم، ولی انسان بیش از هر چیز به مجادله می‌پردازد.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
ہر بات صاف صاف کہہ دی گئی ٭٭

انسانوں کے لیے ہم نے اس اپنی کتاب میں ہر بات کا بیان خوب کھول کھول کر بیان کر دیا ہے تاکہ لوگ راہ حق سے نہ بہکیں، ہدایت کی راہ سے نہ بھٹکیں لیکن باوجود اس بیان، اس فرقان کے پھر بھی بجز راہ یافتہ لوگوں کے اور تمام کے تمام راہ نجات سے ہٹے ہوئے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ رضی اللہ عنہا اور علی رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے مکان میں آئے اور فرمایا تم سوئے ہوئے ہو نماز میں نہیں ہو؟ اس پر علی رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ ہیں، وہ جب ہمیں اٹھانا چاہتا ہے، اٹھا بٹھاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بغیر کچھ فرمائے لوٹ گئے لیکن اپنی زانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے جا رہے تھے کہ انسان تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ [صحیح بخاری:4724] ‏

صفحہ نمبر4926