وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Jumu'ah ۸:۶۲

۸:۶۲
قل ان الموت الذي تفرون منه فانه ملاقيكم ثم تردون الى عالم الغيب والشهادة فينبيكم بما كنتم تعملون ٨
قُلْ إِنَّ ٱلْمَوْتَ ٱلَّذِى تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُۥ مُلَـٰقِيكُمْ ۖ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَـٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَـٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٨
قُلۡ
إِنَّ
ٱلۡمَوۡتَ
ٱلَّذِي
تَفِرُّونَ
مِنۡهُ
فَإِنَّهُۥ
مُلَٰقِيكُمۡۖ
ثُمَّ
تُرَدُّونَ
إِلَىٰ
عَٰلِمِ
ٱلۡغَيۡبِ
وَٱلشَّهَٰدَةِ
فَيُنَبِّئُكُم
بِمَا
كُنتُمۡ
تَعۡمَلُونَ
٨
(ای پیامبر!) بگو: «بی‌گمان آن مرگی که از آن فرار می‌کنید، یقیناً به شما خواهد رسید، سپس به سوی (الله آن) دانای غیب و آشکار باز گردانده می‌شوید، آنگاه شما را از آنچه انجام می‌دادید خبر می‌دهد».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
موت سے مضر نہیں ٭٭

پھر فرماتا ہے موت سے تو کوئی بچ ہی نہیں سکتا، جیسے سورۃ نساء میں ہے «أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ» [4-النساء:78] ‏ یعنی تم جہاں کہیں بھی ہو وہاں تمہیں موت پا ہی لے گی گو مضبوط محلوں میں ہو، معجم طبرانی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے موت سے بھاگنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک لومڑی ہو جس پر زمین کا کچھ قرض ہو وہ اس خوف سے کہ کہیں یہ مجھ سے مانگ نہ بیٹھے، بھاگے، بھاگتے بھاگتے جب تھک جائے تب اپنے بھٹ میں گھس جائے، جہاں گھسی اور زمین نے پھر اس سے تقاضا کیا کہ لومڑی میرا قرض ادا کر دو پھر وہاں سے دم دبائے ہوئے تیزی سے بھاگی آخر یونہی بھاگتے بھاگتے ہلاک ہو گئی۔ [طبرانی6922ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9508