وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: Al-Baqarah آیه 81

۸۱:۲
بلى من كسب سيية واحاطت به خطييته فاولايك اصحاب النار هم فيها خالدون ٨١
بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةًۭ وَأَحَـٰطَتْ بِهِۦ خَطِيٓـَٔتُهُۥ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ٨١
بَلَىٰۚﲋﲌ
مَنﲍ
كَسَبَﲎ
سَيِّئَةٗﲏ
وَأَحَٰطَتۡﲐ
بِهِۦﲑ
خَطِيٓـَٔتُهُۥﲒ
فَأُوْلَٰٓئِكَﲓ
أَصۡحَٰبُﲔ
ٱلنَّارِۖﲕﲖ
هُمۡﲗ
فِيهَاﲘ
خَٰلِدُونَﲙ
٨١ﲚ
آری هر کس که مرتکب گناه شود، و گناهانش او را احاطه کنند، آن‌ها اهل آتشند، و جاودانه در آن خواهند بود.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 81 بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّءَۃً ‘ لیکن اس سے مراد کبیرہ گناہ ہے ‘ صغیرہ نہیں۔ سَیِّءَۃً کی تنکیر ”تفخیم“ کا فائدہ بھی دے رہی ہے۔ وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِٓیْءَتُہٗ “ مثلاً ایک شخص سود خوری سے باز نہیں آرہا ‘ باقی وہ نماز کا بھی پابند ہے اورّ تہجد کا بھی التزام کر رہا ہے تو اس ایک گناہ کی برائی اس کے گرد اس طرح چھا جائے گی کہ پھر اس کی یہ ساری نیکیاں ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ ہمارے مفسرین نے لکھا ہے کہ گناہ کے احاطہ کرلینے سے مراد یہ ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کرلیں کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو ‘ حتیٰ کہ دل سے ایمان و تصدیق رخصت ہوجائے۔ علماء کے ہاں یہ اصول مانا جاتا ہے کہ ”اَلْمَعَاصِیْ بَرِیْدُ الْکُفْرِ“ یعنی گناہ تو کفر کی ڈاک ہوتے ہیں۔ گناہ پر مداومت کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ دل سے ایمان رخصت ہوجاتا ہے۔ ایک شخص اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ‘ لیکن اندر سے ایمان ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ جس طرح کسی دروازے کی چوکھٹ کو دیمک چاٹ جاتی ہے اور اوپر لکڑی کا ایک باریک پرت veneer چھوڑ جاتی ہے۔ فَاُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ