وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Baqarah ۱۱:۲

۱۱:۲
واذا قيل لهم لا تفسدوا في الارض قالوا انما نحن مصلحون ١١
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ١١
وَإِذَا
قِيلَ
لَهُمۡ
لَا
تُفۡسِدُواْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
قَالُوٓاْ
إِنَّمَا
نَحۡنُ
مُصۡلِحُونَ
١١
و هنگامی‌که به آن‌ها گفته شود: «در زمین فساد نکنید» می‌گویند: «ما فقط اصلاح‌کننده‌ایم».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 11 وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ لا اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم نے محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیا تو اب ان کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو ‘ ان ﷺ کے پیچھے چلو۔ ان ﷺ کا حکم ہے تو جنگ کے لیے نکلو۔ ان ﷺ کی طرف سے تقاضا آتا ہے تو مال پیش کرو۔ اور اگر تم اس سے کتراتے ہو تو پھر جماعتی زندگی کے اندر فتنہ و فساد پھیلا رہے ہو۔قَالُوْآ اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ہم تو صلح کرانے والے ہیں۔ ہماری نظر میں یہ لڑنا بھڑنا کوئی اچھی بات نہیں ہے ‘ ٹکراؤ اور تصادم کوئی اچھے کام تھوڑے ہی ہیں۔ بس لوگوں کو ٹھنڈے ٹھنڈے دعوت دیتے رہو ‘ جو چاہے قبول کرلے اور جو چاہے ردّ کر دے۔ یہ خواہ مخواہ دشمن سے ٹکرانا اور جنگ کرنا کس لیے ؟ اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے قربانیاں دینے ‘ مصیبتیں جھیلنے اور مشقتیں برداشت کرنے کے مطالبے کا ہے کے لیے ؟