وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-A'raf ۱۸:۷

۱۸:۷
قال اخرج منها مذءوما مدحورا لمن تبعك منهم لاملان جهنم منكم اجمعين ١٨
قَالَ ٱخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًۭا مَّدْحُورًۭا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ ١٨
قَالَ
ٱخۡرُجۡ
مِنۡهَا
مَذۡءُومٗا
مَّدۡحُورٗاۖ
لَّمَن
تَبِعَكَ
مِنۡهُمۡ
لَأَمۡلَأَنَّ
جَهَنَّمَ
مِنكُمۡ
أَجۡمَعِينَ
١٨
(الله) فرمود: «از آن نکوهیده و خوار بیرون رو، قطعاً هرکس از آن‌ها از تو پیروی کند، جهنم را از شما همگی پر خواهم کرد.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
اللہ تعالیٰ کے نافرمان جہنم کا ایندھن ہیں ٭٭

اس پر اللہ کی لعنت نازل ہوتی ہے، رحمت سے دور کر دیا جاتا ہے۔ فرشتوں کی جماعت سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ عیب دار کر کے اتار دیا جاتا ہے۔

لفظ «مَذْءُومًا» ماخوذ ہے، «ذام» اور «ذیم» سے۔ یہ لفظ بہ نسبت لفظ «ذم» کے زیادہ مبالغے والا ہے، پس اس کے معنی عیب دار کے ہوئے اور «مَّدْحُورً» کے معنی دور کئے ہوئے کے ہیں۔ مقصد دونوں سے ایک ہی ہے۔ پس یہ ذلیل ہو کر اللہ کے غضب میں مبتلا ہو کر نیچے اتار دیا گیا۔ اللہ کی لعنت اس پر نازل ہوئی اور نکال دیا گیا۔

اور فرمایا گیا کہ تو اور تیرے ماننے والے سب کے سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا ـ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِى الاٌّمْوَلِ وَالاٌّوْلَـدِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَـنُ إِلاَّ غُرُورًا ـ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً» [17-الإسراء:63-65] ‏ ” تمہاری سب کی سزا جہنم ہے تو جس طرح چاہ انہیں بہکا لیکن اس سے مایوس ہو جا کہ میرے خاص بندے تیرے وسوسوں میں آ جائیں ان کا وکیل میں آپ ہوں۔ “

صفحہ نمبر2872