وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Anbiya ۱۱۱:۲۱

۱۱۱:۲۱
وان ادري لعله فتنة لكم ومتاع الى حين ١١١
وَإِنْ أَدْرِى لَعَلَّهُۥ فِتْنَةٌۭ لَّكُمْ وَمَتَـٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ ١١١
وَإِنۡ
أَدۡرِي
لَعَلَّهُۥ
فِتۡنَةٞ
لَّكُمۡ
وَمَتَٰعٌ
إِلَىٰ
حِينٖ
١١١
و من نمی‌دانم، شاید این (تأخیر عذاب) برای شما آزمایشی، و بهره‌مندی تا مدتی (معین) باشد».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 21:107 تا 21:112

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی مقصد کے لیے آئے۔ ان کے ذریعہ خدا یہ چاہتا تھا کہ انسانوں کو حقیقت کا وہ علم دے جس کو اختیار کرکے وہ ابدی جنت کے باشندے بن سکتے ہیں۔ مگر انسان ہر بار پیغمبروں کو رد کرتا رہا۔

اس اعتبار سے تمام پیغمبر خدا کی رحمت تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ایک خصوصی عنایت کا ذریعہ بنایا۔ خدا نے یہ فیصلہ فرمایا کہ آپ کے ذریعہ ہدایت کے اس دروازے کو ہمیشہ کے لیے کھول دے جو اب تک ان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ اس بنا پر آپ کی مدعو قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی فیصلہ تھا کہ اس کو بہر حال حق کے راستے پر لانا ہے۔ تاکہ پیغمبر کے ساتھ ایک طاقت ور جماعت تیار ہو اور وہ دنیا میں انقلاب برپا کرکے تاریخ کے رخ کو موڑ دے۔ رحمت خداوندی کا یہ خصوصی منصوبہ آپ اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ بہ تمام وکمال انجام پایا۔