وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: Al-An'am آیه 20

۲۰:۶
الذين اتيناهم الكتاب يعرفونه كما يعرفون ابناءهم الذين خسروا انفسهم فهم لا يومنون ٢٠
ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمُ ۘ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ٢٠
ٱلَّذِينَﱭ
ءَاتَيۡنَٰهُمُﱮ
ٱلۡكِتَٰبَﱯ
يَعۡرِفُونَهُۥﱰ
كَمَاﱱ
يَعۡرِفُونَﱲ
أَبۡنَآءَهُمُۘﱳﱴ
ٱلَّذِينَﱵ
خَسِرُوٓاْﱶ
أَنفُسَهُمۡﱷ
فَهُمۡﱸ
لَاﱹ
يُؤۡمِنُونَﱺ
٢٠ﱻ
کسانی‌که به آن‌ها کتاب داده‌ایم، به خوبی او را می‌شناسند، همان گونه که فرزندان خود را می‌شناسند، کسانی‌که به خویش زیان رسانده‌اند پس ایمان نمی‌آورند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 20 اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمْ 7یَعْرِفُوْنَہٗ کی ضمیر مفعولی دونوں طرف جاسکتی ہے ‘ قرآن کی طرف بھی اور حضور ﷺ کی طرف بھی۔ البتہ اس سے قبل یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ قرآن اور رسول ﷺ مل کر ہی بیّنہ بنتے ہیں ‘ یہ دونوں ایک وحدت اور ایک ہی حقیقت ہیں۔ حضور ﷺ خود قرآن مجسم ہیں۔ قرآن ایک انسانی شخصیت اور سیرت و کردار کا جامہ پہن لے تو وہ محمد ﷺ ہیں۔ جیسا کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رض نے فرمایا تھا : کَانَ خُلُقُہُ الْقُرآنَ 1 یعنی حضور ﷺ کی سیرت قرآن ہی تو ہے۔