Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Yúsuf Ayah 37

12:37
قال لا ياتيكما طعام ترزقانه الا نباتكما بتاويله قبل ان ياتيكما ذالكما مما علمني ربي اني تركت ملة قوم لا يومنون بالله وهم بالاخرة هم كافرون ٣٧
قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌۭ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ ۚ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍۢ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَـٰفِرُونَ ٣٧
قَالَﳄ
لَاﳅ
يَأۡتِيكُمَاﳆ
طَعَامٞﳇ
تُرۡزَقَانِهِۦٓﳈ
إِلَّاﳉ
نَبَّأۡتُكُمَاﳊ
بِتَأۡوِيلِهِۦﳋ
قَبۡلَﳌ
أَنﳍ
يَأۡتِيَكُمَاۚﳎﳏ
ذَٰلِكُمَاﳐ
مِمَّاﳑ
عَلَّمَنِيﳒ
رَبِّيٓۚﳓﳔ
إِنِّيﳕ
تَرَكۡتُﳖ
مِلَّةَﳗ
قَوۡمٖﳘ
لَّاﳙ
يُؤۡمِنُونَﳚ
بِٱللَّهِﳛ
وَهُمﳜ
بِٱلۡأٓخِرَةِﳝ
هُمۡﳞ
كَٰفِرُونَﳟ
٣٧ﳠ
[Dijo José:] “Antes de que traigan la comida ya les habré dado su interpretación. La interpretación de los sueños es algo que mi Señor me enseñó; sepan primero que rechazo las costumbres de un pueblo que no cree en Dios y niega la existencia de la otra vida.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 12:37 hasta 12:40

نوجوان قیدیوں نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے حضرت یوسف سے رجوع کیا۔ انھوں نے جس انداز سے سوال کیا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ آ پ کی شخصیت سے متاثر ہیں۔ اور آپ کی رائے پر اعتماد کرتے ہیں۔ حضرت یوسف جیسے نیک اور بااصول انسان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہنے کے بعد ایسا ہونا بالکل فطری تھا۔

حضرت یوسف کے دعوتی جذبے نے فوراً محسوس کرلیا کہ یہ بہترین موقع ہے کہ ان نوجوانوں کو دینِ حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خواب کی تعبیر فوراً بتادینے کے بعد ان کی توجہ آپ کی طرف سے ہٹ جاتی۔ چنانچہ آپ نے حکیمانہ انداز اختیار کیا اور خواب کی تعبیر کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کردیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید پر مختصر تقریر کی۔ اس میں مخاطب کی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے نہایت خوب صورت استدلال کے ساتھ اپنا پیغام انھیں سنادیا۔

درخت، پتھر، ستارے یا ارواح وغیرہ کو جو لوگ پوجتے ہیں اس کا راز یہ ہے کہ وہ بطور خود ان کو مشکل کشا اور حاجت روا جیسے القاب دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ واقعۃً وہ مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ حالاں کہ یہ سب انسان کے اپنے بنائے ہوئے اسم ہیں جن کا مسمی خارج میں کہیں موجود نہیں۔